فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

دو مختلف شوہروں سے اولاد ہونے کی صورت میں تمام اولاد وراثت کی حقدار ہوگی

فتویٰ نمبر 726202610391 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

دو مختلف شوہروں سے اولاد ہونے کی صورت میں تمام اولاد وراثت کی حقدار ہوگی

سوال
میری والدہ مسماۃ نور جہاں کا انتقال ہو گیا ہے، ان کی دو شادیاں تھیں، پہلے شوہر سے چھ بیٹے اور چار بیٹیاں ہوئیں، دوسرے سے ایک بیٹا ہے۔ شوہر فوت ہوچکے ہیں اور اولاد ساری حیات ہے۔ مرحومہ کے ترکہ میں ایک مرلے کا پلاٹ، تین تولہ سونا، سو سوٹ سلے ہوئے اور پچاس سوٹ بغیر سلے ہوئے ہیں۔ ہر ایک کا شرعی حصہ بتا دیں۔
جواب
مسئلہ18 نور جہاں (متوفیہ)   میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ   بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی   2 2 2 2 2 2 2 1 1 1 1    بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ نور جہاں(مرحومہ) کا کل ترکہ 18 حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔    باقی لباسوں کی مالیت لگا کر فروخت کرکے تقسیم کیا جائے ، اور اگر کوئی وارث اپنا حصہ دوسرے کو بلا معاوضہ یا بالعوض دینا چاہےتو اس کی بھی اجازت ہے۔  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض