ذوی الفروض کو دینے کے بعد عصبہ کیلئے ترکہ میں سے باقی کچھ نہ بچا تو شرعا کیا حکم ہے؟
سوال
ملکانی بی بی فوت ہوئی۔ ورثاء میں شوہر(محمد اسلم)، والدہ(رحمت بی بی)، دو بیٹیاں(پروین، نذیراں)، دو بھائی (جن میں سے ایک بھائی مرحومہ سے پہلےفوت ہوگیا تھا اور اللہ ڈتہ زندہ ہے)۔ مرحومہ کی کوئی بہن نہیں ہے اور والد کا انتقال زندگی میں ہی ہوگیا تھا۔
ہر ایک شرعی حصہ بتا دیں۔جزاكم الله خيرا
جواب
مسئلہ12/عول13 ملکانی بی بی(متوفیہ)
میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
شوہر۔ والدہ ۔بیٹی ۔بیٹی ۔بھائی
3۔ 2۔ 4۔ 4۔ محروم
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ ملکانی بی بی(مرحومہ) کا کل ترکہ 13 حصے ہو کر شوہر کو 3 حصے، والدہ کو 2 حصے اور ہر بیٹی کو 4 حصے ملیں گے۔ الله ڈتہ(بھائی) عصبہ ہے اور ذوی الفروض سے کچھ بچا نہیں، اس لئے وہ مرحومہ کے ترکہ سے شرعاً محروم رہے گا۔جیساکہ سراجی میں ہے:
والعصبة: كل من يأخذ ما أبقته أصحاب الفرائض
(السراجي، ترتيب تقسيم التركة، ص16 ط:بشرىٰ)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض