فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

ذوی الفروض کو دینے کے بعد عصبہ کیلئے ترکہ میں سے باقی کچھ نہ بچا تو شرعا کیا حکم ہے؟

فتویٰ نمبر 726202610390 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

ذوی الفروض کو دینے کے بعد عصبہ کیلئے ترکہ میں سے باقی کچھ نہ بچا تو شرعا کیا حکم ہے؟

سوال
ملکانی بی بی فوت ہوئی۔ ورثاء میں شوہر(محمد اسلم)، والدہ(رحمت بی بی)، دو بیٹیاں(پروین، نذیراں)، دو بھائی (جن میں سے ایک بھائی مرحومہ سے پہلےفوت ہوگیا تھا اور اللہ ڈتہ زندہ ہے)۔ مرحومہ کی کوئی بہن نہیں ہے اور والد کا انتقال زندگی میں ہی ہوگیا تھا۔ ہر ایک شرعی حصہ بتا دیں۔جزاكم الله خيرا
جواب
مسئلہ12/عول13 ملکانی بی بی(متوفیہ) میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ  شوہر۔ والدہ ۔بیٹی ۔بیٹی ۔بھائی  3۔ 2۔ 4۔ 4۔ محروم  بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ ملکانی بی بی(مرحومہ) کا کل ترکہ 13 حصے ہو کر شوہر کو 3 حصے، والدہ کو 2 حصے اور ہر بیٹی کو 4 حصے ملیں گے۔ الله ڈتہ(بھائی) عصبہ ہے اور ذوی الفروض سے کچھ بچا نہیں، اس لئے وہ مرحومہ کے ترکہ سے شرعاً محروم رہے گا۔جیساکہ سراجی میں ہے: والعصبة: كل من يأخذ ما أبقته أصحاب الفرائض (السراجي، ترتيب تقسيم التركة، ص16 ط:بشرىٰ)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض
ٹیگز:
معاملات