فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

قبرستان کی زمین میں مسجد بنانے کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 726202610387 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

قبرستان کی زمین میں مسجد بنانے کا شرعی حکم

سوال
۱۷ کنال ۱۰ مرلے قبرستان کیلئے وقف ہے۔ اب وہاں ایک آدمی مسجد بنا رہا ہے۔جبکہ ایک فرلانگ پر بستی آریں میں تقریباً چھ بیگہ کے فاصلہ پر دوسری جامع مسجد موجود ہے۔ نیز خود اس شخص کا قبرستان کے ساتھ پانچ کنال رقبہ موجود ہے۔وہاں صرف اسی کا گھر ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور آباد نہیں ہے۔آیا قبرستان میں مسجد بنا سکتے ہیں؟
جواب
واضح رہے کہ قبرستان الگ جہتِ وقف ہے اور مسجد الگ جہتِ وقف ہے۔ لہٰذا قبرستان کیلئے وقف شدہ زمین میں مسجد نہیں بنا سکتے۔ البتہ اگر اس قبرستان میں لوگوں نے دفن کرنا چھوڑ دیا ہے، اور اس کا رقبہ وافر ہے، اور وہاں مسجد کی ضرورت بھی ہو تو ایسی صورت میں مسجد بنانے کی گنجائش ہے، بشرطیکہ قبرستان میں تنگی کا باعث نہ ہو۔ جبکہ زیر بحث صورت میں ایسی ضرورت نہیں ہے۔ اس لئے وہاں مسجد نہ بنائے۔ ولما في الفتاوى الهندية: سئل القاضي الإمام شمس الأئمة محمود الأوزجندي عن مسجد لم يبق له قوم وخرب ما حوله واستغنى الناس عنه هل يجوز جعله مقبرة؟ قال: لا. وسئل هو أيضا عن المقبرة في القرى إذا اندرست ولم يبق فيها أثر الموتى لا العظم ولا غيره هل يجوز زرعها واستغلالها؟ قال: لا، ولها حكم المقبرة، كذا في المحيط… (كتاب الوقف، الباب الثاني عشر في الرباطات والمقابر والخانات والحياض، 470/2 ط:دار الفكر) لما فيه أيضا: ولا يجوز تغيير الوقف عن هيئته فلا يجعل الدار بستانا ولا الخان حماما ولا الرباط دكانا، إلا إذا جعل الواقف إلى الناظر ما يرى فيه مصلحة الوقف، كذا في السراج الوهاج. (كتاب الوقف، الباب الرابع عشر في المتفرقات، 490/2 ط:دار الفكر) :ولما في عمدة القاري شرح صحيح البخاري فإن قلت هل يجوز أن تبنى على قبور المسلمين قلت قال ابن القاسم لو أن مقبرة من مقابر المسلمين عفت فبنى قوم عليها مسجدا لم أر بذلك بأسا وذلك لأن المقابر وقف من أوقاف المسلمين لدفن موتاهم لا يجوز لأحد أن يملكها فإذا درست واستغنى عن الدفن فيها جاز صرفها إلى المسجد لأن المسجد أيضا وقف من أوقاف المسلمين لا يجوز تملكه لأحد فمعناهما على هذا واحد وذكر أصحابنا أن المسجد إذا خرب ودثر ولم يبق حوله جماعة والمقبرة إذا عفت ودثرت تعود ملكا لأربابها فإذا عادت ملكا يجوز أن يبنى موضع المسجد دارا وموضع المقبرة مسجدا وغير ذلك فإذا لم يكن لها أرباب تكون لبيت المال (كتاب الصلاة، باب هل تنبش قبور مشركي الجاهلية ويتخذ مكانها مساجد، قبيل باب الصلاة في مرابض الغنم، 6 / 473 ط:دار إحياء التراث العربي)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: جنائز