فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

مکان بیوی کے نام سے خرید کر اس کا کرایہ بیوی کو دینےسے وہ مالک ہوگئی۔

فتویٰ نمبر 718202610355 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

مکان بیوی کے نام سے خرید کر اس کا کرایہ بیوی کو دینےسے وہ مالک ہوگئی۔

سوال
میں نے ایک عدد پلاٹ خریدا جو اپنی اہلیہ کے نام کرا دیا ،پلاٹ خریدتے ہی براہِ راست اہلیہ کے نام لگوایا تھا۔ نیت اس کو دینے کی تھی ، لیکن اُن کو قبضہ نہیں دیا ، اس پلاٹ پر مکان بھی تعمیر کردیا ، کچھ عرصہ مکان کا کرایہ بھی اپنی اہلیہ کو دیتا رہا ، بعد میں اُن کو دینا بند کر دیا۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ وہ شرعاً مالک بن چکی ہے یا نہیں؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں یہ پلاٹ خریدتے ہی آپ کی اہلیہ کی ملک ہوچکا تھا، کیونکہ اس پلاٹ کی خریدار ہی اہلیہ ہی  ہے، خاوند نے اس کی طرف سے اس خریداری اور رقم کی ادائیگی کی ہے۔جب خریدار اہلیہ ہے تو مالک بھی وہی ہے۔ نیز اس پلاٹ پر مکان تعمیر  کرا کے دینا یہ خاوند کی طرف سےعمارت کا ہبہ ہے اور پلاٹ چونکہ پہلے سے اہلیہ کی ملک ہے اس لیے اہلیہ کا قبضہ پہلے سے ثابت  ہے ۔ نیز شروع میں اس مکان کا کرایہ اہلیہ کو دینے سے یہ قبضہ مزید متحقق ہوگیا۔ " أن القبض الموجود في الهبة ينوب عن قبض الهبة ۔۔۔ إذا كان الموهوب في يد الموهوب له وديعة أو عارية فوهب منه جازت الهبة وصار قابضا بنفس العقد ووقع العقد والقبض معا ولا يحتاج إلى تجديد القبض بعد العقد استحسانا۔ بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 126) الحاصل مذکورہ مکان شرعاً آپ کی اہلیہ کی ملکیت بن چکا ہے ۔ فقط واللہ اعلم
حوالہ: معاملات