فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

امام کی تنخواہ سرکاری قوانین کے مطابق بڑھائی جائے۔

فتویٰ نمبر 716202610353 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

امام کی تنخواہ سرکاری قوانین کے مطابق بڑھائی جائے۔

سوال
ہماری مسجد کے امام صاحب عمر زائد ہونے کی وجہ سے ایک سال پہلے امامت سے بوجہ بیمار رہنے کے عاجز آگئے ہیں جو تقریبا بارہ سال سے بھی زائد عرصہ سے امامت کرا رہے تھے اور اب تک ان کی تنخواہ پندرہ ہزار ہوئی تھی۔ اب ان کے بیٹے امام صاحب مقرر ہوگئےہیں، ان کی تنخواہ پچیس ہزار روپے مقرر ہوئی ہے ، حالانکہ باپ کی تنخواہ کم تھی۔ شریعت کی روشنی میں کیا یہ جائز ہے ؟میرا موقف یہ ہے کہ کسی کی ذاتی فیکٹری میں مسجد ہو تو وہ جتنی چاہے تنخواہ دیدے ، لیکن یہ تو محلہ کی مسجد ہے اس میں تو مسجد کا فنڈ اکٹھا ہوتا ہے اس لیے زیادہ تنخواہ دینا ٹھیک نہیں۔ حالانکہ امام صاحب کی طرف سے تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ بھی نہیں ہے۔ اب چھ مہینے بعد اس کی تنخواہ دوسری مرتبہ بڑھانے والے ہیں، کہتے ہیں کہ تنخواہ کم ہے۔ نیز سابقہ امام صاحب کی خدمت بھی کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ان کے دیگربیٹے اچھے خاصا کمانے والے ہیں، باہر رہتے ہیں۔کیا یہ جائز ہے؟ وضاحت : سائل نے بتایا کہ وہ خود مسجد کے فنڈ میں ماہنانہ تین سور وپے جمع کراتا ہے ، اور مسجد انتظامیہ نے یہ فنڈ اہل محلہ پر مقرر کررکھا ہے ، اس کے علاوہ جو صاحب خیرحضرات مسجد کا تعاون کردیتے ہیں وہی ہے۔
جواب
گورنمنٹ کی طرف سے حالیہ بجٹ میں ایک مزدور کی ماہانہ اجرت تینتالیس ہزار روپے مقرر کی گئی ہے ، اور امام کا مرتبہ ایک مزدور سے کہیں زیادہ ہے۔ اصولی طور پر امام کی تنخواہ ایک پروفیسر، جج ، قاضی  کے برابر ہونی چاہیے،  اس لیے اگر مسجد کے فنڈمیں گنجائش ہو تو اتنی تنخواہ دیں جتنی ایک سکول کالج کے استاذ یا پروفیسر کی ہوتی ہے ، لیکن اگر فنڈ میں گنجائش نہ ہو تو پھر کم ازکم ایک مزدور کی مقرررہ اجرت کے برابر تو تنخواہ لازمی دیں۔تاکہ وہ معاش کی فکر سے آزاد ہو کر اہتمام کے ساتھ امامت ،خطاب تعلیم قرآن کی ذمّہ داری کا حق ادا کرسکے۔ اس سے کم تنخواہ دینا ناانصافی ہے ،جس طرح گورنمنٹ کے دیگر قوانین کی پابندی ضروری ہے ، اسی طرح اس قانون کی پابندی بھی ضروری ہے ۔ ضروری نہیں ہے کہ امام مطالبہ کرے پھڑ تنخواہ بڑھائیں بلکہ حالات اور واقعات اور مہنگائی کو دیکھ کر بڑھائی جائے۔ نیز  اہل محلہ پر ماہانہ صرف تین سور روپے مقرر کرنا یہ فنڈ بھی مسجد کیلئے ناکافی ہے، اگر ضرورت ہو تو اہل محلہ پر کم از کم ایک ہزار روپے مقرر کیے جائیں ، تاکہ امام مسجد کی تنخواہ ودیگرضروریات پوری ہوسکیں۔  اس کے علاوہ جو شخص جس قدر چاہے خوشی سےدینا چاہے ذخیر ہ آخرت کیلئے جمع کرائے۔ اگر مسجد کے فنڈ میں گنجائش ہے اور مسجد کی کمیٹی سابقہ امام کی خدمت کا فیصلہ کرے  تو اس کی بھی گنجائش ہے ،تاہم چندہ دہندگان کو س بارے پہلے سے بتا دیا جائے یا  اس مد میں مستقل چندہ کر لیاجائے تو یہ زیادہ بہتر ہے ۔ یا  سابقہ امام صاحب کے ذمّہ مسجد سے متعلقہ کوئی خدمت / یا کسی امر کی ذمّہ داری ان کے سپرد کردی جائے اور اس کا معاوضہ مقرر کردیا جائے تو یہ بھی ٹھیک ہے۔ نیز مسجد کی کمیٹی جب اتفاقِ رائے سے کوئی فیصلہ کرے تو عام عوام کو اس پر نکتہ چینی یا اعتراض کا حق نہیں، اس سے نقض ِ امن پیدا ہوتا  ہے اور یہ مسجد کے معاملات میں فساد ڈالنے کے مترادف ہے۔ فقط واللہ اعلم
حوالہ: اجارہ