فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

اپنا موبائل قسطوں پر اشیاء دینے والی کمپنی کی نمائندگی میں خریدار کو قسطو ں پربیچنا :

فتویٰ نمبر 716202610352 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

اپنا موبائل قسطوں پر اشیاء دینے والی کمپنی کی نمائندگی میں خریدار کو قسطو ں پربیچنا :

سوال
ایک شخص کی موبائل کی دوکان ہے۔ اس کے پاس ایک خریدار آتا ہے اور کہتا ہے مجھے قسطوں پر موبائل چاہیے۔ دوکاندار کا رابطہ ایک ایسی کمپنی (ایپ) سے ہے جو قسطوں پر موبائل وغیرہ فراہم کرتی ہے۔ دکانداراس کمپنی کوخریدار کاشناختی ڈیٹ (ID) دے دیتا ہے اور خریدار کومو بائل تھما دیتا ہے، جبکہ ایڈوانس رقم دوکاندار خود رکھ لیتا ہے۔ کمپنی خریدار سے قسطیں خود وصول کرتی ہے اور دوکاندار کو بقیہ رقم اور کچھ اضافی نفع دے دیتی ہے۔ مثلا موبائل کی اصل قیمت 30,000 روپے ہے۔ دوکاندار خریدار سے 8,000 روپے ایڈوانس لیا ہے اور بقیہ 22,000 روپے مع منافع کمپنی دوکاندار کوادا کرتی ہے۔ یہ کمپنی قسط لیٹ ہونے کی صورت میں خریدار سے "لیٹ چارجز " (جرمانہ) بھی لیتی ہے جس میں سے دوکاندار کو کچھ نہیں ملتا۔ شریعت مطہرہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا دوکاندار کے لیے اس نوعیت کا کاروبار کرنا اور اس سے منافع کمانا جائز ہے یا نہیں؟۔ وضاحت: 1۔ خریدار کا کمپنی سے پہلے سے کوئی رابطہ نہیں ہوتا ہے وہ پہلےدوکاندار کے پاس ہی آتے ہےدوکاندار اسے موبائل وغیرہ فروخت کر کے اس کا نمبر اور آئ ڈی وغیرہ کمپنی کو بھیج دیتاہے اور تاکید کرتا ہے قسط کمپنی والوں کو ادا کرتے رہنا۔ پھر وہ کمپنی اس خریدار سے رابطہ رکھتی ہے۔ 2۔ یہ موبائل اصل میں دکاندار کے ہوتے ہیں یا کمپنی نے اس کے پاس قسطوں پر دینے کیلئے رکھوائے ہوتے ہیں، اس سوال کے جواب میں سائل نے بتایا کہ یہ موبائل اصل میں اس دکاندار کے ہی ہوتے ہیں، سائل کے بقول دکاندار نے کہا کہ دراصل ہم سے یہ موبائل کمپنی خریدتی ہے ، پھر ہمارے توسط سے خریدار کو قسطوں پر فروخت کردیتی ہے ، رہی بات یہ کہ کمپنی نے موبائل خریدنے کے بعد اس پر قبضہ تو کیا نہیں تو پھر قبضہ کے بغیر وہ کیسے فروخت کرتی ہے ، تو قبضہ کی شرط کو پورا کرنے کی یہ صورت اختیار کی ہے کہ جب خریدار دکان دار سے قسطوں کا معاملہ کرتا ہے اور دکاندار کمپنی کو خریدار کے کوائف کے ساتھ ساتھ موبائل کا آئی ایم ای نمبر بھی بھیجتا ہے ، او رکمپنی آئی ایم ای نمبر میں کچھ ایسا تصرف کرتی ہے کہ وہ موبائل ان کے سوفٹ وئیر سے لنک ہوجاتا ہے ،کمپنی چاہے تو اس کو بند بھی کرسکتی ہے۔ بعد میں خریدار کا معاملہ کمپنی کے ساتھ رہتا ہے۔ 3۔ قسط لیٹ کرنے پر جرمانے والی جو بات ہے اس میں وضاحت ہے کہ کمپنی نے دو صورتیں متعین کی ہیں ایک صورت میں قسط لیٹ ہونے پر جرمانہ ہے ۔ دوسری صورت میں قسط لیٹ ہونے پر کوئی جرمانہ تو نہیں ہے لیکن اس صورت کے تحت موبائل کی قیمت کچھ زیادہ ہوتی ہے۔ خریدار کو اختیار ہوتا ہے کہ ان میں سے جو صورت چاہے اختیار کرلے ، اوردکاندار معاملہ طے کرتے وقت دکاندار کو دونوں صورتیں بتا کر ایک صورت متعین کرالیتا ہے۔
جواب
موبائل کی مذکورہ خریداری چند وجوہ کی بنا پر شرعا جائز نہیں ۔ 1۔  بقول سائل مذکورہ کمپنی دکاندار سے موبائل خرید لیتی ہے اس کا جواب یہ ہے کہ شرعا خریداری کے لیے باقاعدہ ایجاب و قبول کی ضرورت ہوتی ہے ۔ تو یہ بیع و شراء بلا ایجاب و قبول وبلا تعاطی کیسے ثابت ہو گئی؟ "البيع ينعقد بالإيجاب والقبول ۔۔۔ مثل أن يقول أحدهما بعت والآخر اشتريت۔ (هدايہ ، کتاب البیوع، جلد:3، صفحہ: 23)                  2۔ بقول سائل کمپنی پھر دکاندار کے ذریعے اس موبائل کو گاہک کے ہاتھ فروخت کرتی ہے اس کے کے لیے توکیل شرعا ضروری ہے جبکہ زیر بحث صورت میں ثبوت توکیل کے لیے کوئی ایک لفظ بھی موجود نہیں۔ وأما بيان ركن التوكيل. فهو الإيجاب والقبول فالإيجاب من الموكل أن يقول: " وكلتك بكذا " أو " افعل كذا " أو " أذنت لك أن تفعل كذا " ونحوه. والقبول من الوكيل أن يقول: " قبلت " وما يجري مجراه، فما لم يوجد الإيجاب والقبول لا يتم العقد۔ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، کتاب الوکالۃ، جلد: 6، صفحہ:20) 3۔  مذکورہ صورت میں قبضہ بھی مخدوش ہے جس کی مختلف وجوہ  ہیں۔  (الف)۔ رجسٹر ڈ سیریل نمبر(آئی ایم ای نمبر )دینے سے بقول سائل کمپنی سے بند کر سکتی ہے، یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی کیونکہ یہ اختیار گورنمنٹ کے ادارہ پی ٹی اے کو ہوتا ہے نہ کہ  عوام اور قسطوں پر موبائلوں کی خرید و فروخت کرنے والی کمپنیوں اوردکانداروں کو۔البتہ  سرکاری محکمہ ایک آئی ایم ای نمبر پر دو موبائل چلنے کی وجہ سے یا ٹیکس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے موبائل کو بند کرتا ہے۔ (ب)۔بالفرض اگر ان  معلومات کو درست  تسلیم کر لیا جائے تب بھی اسے شرعا وعرفا قبضہ نہیں کہا جا سکتا، جیسے واٹس ایپ ہیک ہو جائے ، کوئی شخص وائرس بھیج کر موبائل یا کمپیوٹر کو  کام سے روک دے یا کسی کا اے ٹی ایم کارڈ گم ہو جائے بینک سے  کھاتہ بند کروا دیا جائے تو ان صورتوں میں نقصان تو ہوسکتا ہے  لیکن اسے کھاتہ کی رقم پر یا موبائل وکمپیوٹر پرعرفا اور شرعا قبضہ شمار نہیں کیا جاتا ،اسی طرح زیر بحث صورت میں بھی  شرعا یہ قبضہ شمار نہ ہوگا ، بغیر قبضہ فروخت کرنے سے بیع فاسد ہو جاتی ہے اور نفع  سود کے حکم میں داخل ہو جاتا ہے۔ چنانچہ فتاویٰ شامیہ میں ہے: "البیع الفاسد  ۔۔۔۔ معصية ‌يجب ‌رفعها، وسيأتي في باب الربا أن كل عقد فاسد فهو ربا، يعني إذا كان فساده بالشرط الفاسد."  (شامیہ علی الدرالختار، کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج:5،ص:49،ط:سعید)  نیز شریعت مطہرہ میں قبضہ کی دو صورتیں بیان کی گئی ہیں : 1۔ قبضہ حقیقی                        2۔قبضہ حکمی  قبضہ حقیقی یہ ہےکہ چیز باقاعدہ دوسرے کے حوالے کر دی جائے۔ اور قبضہ حکمی یہ ہے کہ چیز ایسی جگہ رکھ دی جائے کہ اگر مشتری وہاں سے لینا چاہے تو کوئی رکاوٹ نہ ہو یا مشتری کو یہ کہہ دیا جائے کہ یہ اپ کی چیز ہے اسے سنبھال لو ۔ ثم التسليم يكون بالتخلية على وجه يتمكن من القبض بلا مانع ولا حائل۔ (درمختار مع الشامیہ، جلد:4 ،صفحہ:561، 562، البیوع، مطلب مایکون قبضا فی البیع ، ط:ایچ ایم سعید ) اور صورۃِ مسئولہ میں نہ حقیقی قبضہ پایا گیا ہے اور نہ ہی حکماً قبضہ متحقق ہوا، لہذا یہ بیع قبل القبض ہونے کی وجہ سے شرعا فاسد شمار ہوگی ۔ 4۔ جرمانہ اور قیمت میں اضافہ:  مفتیٰ بہٖ قول کے مطابق جرمانہ شرعا ناجائز ہے۔ التعزير بأخذ المال ۔۔۔۔عندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ.۔۔۔۔۔والحاصل ان المذھب عدم التعزیر بأخذالمال  (شامیہ علی الدر المختار، جلد:۴،صفحہ:۶۲، کتاب الحدود، باب التعزیر، ط:ایچ ایم سعید) ثمن  میں اضافہ کی صورت کو حضرات فقہاءِ کرام  نے جائز لکھا ہے لیکن  وہ  اضافہ جبری نہیں ہوتا بلکہ مشتری  خوش ہو کر کہ مجھے سودا اچھا مل گیا ہے بائع کے مطالبہ کے بغیر از خود قیمت میں زیادتی کر دیتا ہے اور اس سے زیادتی کی مقدار بھی طے نہیں ہوتی جبکہ زیر بحث صورت میں باقاعدہ طے ہوتی ہے، اور  مشتری ماہوار ، ہفتہ وار یا یومیہ اضافہ سے بچنے کے لیے وہ اسے قبول کرتا ہے۔ یا بائع  کے فقیر ہونے کی صورت میں بطور تعاون مشتری اضافہ کر دے مثلا پانچ روپے کی چیز کے 50 روپے دے دیتا ہے۔  الحاصل : موبائل بیچنے کی مذکورہ صورت شرعی محرمات کا مجموعہ ہے، لہٰذا اس سے احتراز کیا جائے، آئندہ کے لیے کسی جید مفتی سے معلومات حاصل کر کے خرید و فروخت کی جائے بصورت دیگر یہ حرام یا کم  از کم مشتبہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ فقط واللہ اعلم
حوالہ: معاش و اموال