بور کھدائی کیلئے پانی دینے کا معاہدہ کیا تو بور ناکام ہونے پر اجرت لازم ہوگی؟
سوال
زید نے پینے کے لیے پانی کا بور لگوانا تھا ، اور دورانِ بور ڈرلنگ کے لیے پانی کی ضرورت تھی بکر کا اپنا ذاتی بور تھا اس نے زید سے کہا کہ میں آٰپ کو بوری کی مکمل کھدوائی تک پانی مہیا کروں گا اور مبلغ 35 ہزار روپے لوں گا اور بور کی گہرائی 450 فٹ مقرر تھی ۔ کام شروع ہوگیا ، پھر تقریبا 250 فٹ پر پہنچ کر بور خراب ہو گیا مشین والا کام بند کر کے گھر چلا گیا ،اس نے وہ ہول( گڑھا) بھی بند کر دیا اور ٹریکٹر سے زمین برابر کر دی یعنی بور ناکام ہو گیا ۔اب بکر نے مطالبہ کر دیا ہے کہ میرے پیسے دے دو ،اب نقصان بھی زید کا ہوا، البتہ پانی کا ضیا ع بکر کا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ بکر کا کوئی نقصان نہیں ہوا کیونکہ بکر کا بور شمسی تھا۔
شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ بکر پیسے لینے کا حقدار ہے یانہیں؟ اگر حقدار ہے ہے تو کتنے کا ؟
اگر دوسرا بور والا آجائے پھر سے بور کرائے تو بکر پانی دینے کا پابند ہوگا یا نہیں؟
جواب
صورت مسئولہ میں جب 450فٹ بور کی کھدائی کیلئے پینتیس ہزرار (35,000)روپے اجرت مقرر تھی، تو اب بور ناکام ہونے کی صورت میں جس قدر کھدائی ہوچکی ہے بکر اتنی اجرت کا حقدار ہے ، حساب کر کے اسے جو اجرت دی جائے۔ یہ کہنا کہ چونکہ بوری شمسی تھا اس لیے اس کا نقصان کوئی نہیں ہوا درست نہیں اس لیے کہ سورج کی روشنی قدرتی ہے لیکن اس سے بجلی حاصل کرنے کیلئے سولر پلیٹیں اور دیگر آلات اور موٹر وغیرہ ان سب پر مال خرچ ہوتا ، استعمال سے موٹر کی صلاحیت میں بھی فرق آتا ہے ۔ زید کا جو نقصان ہوا بکر کو اس میں شریک کرنا درست نہیں۔
البتہ بکر زید کے نقصان کو دیکھتے ہوئےاجرت کا کچھ حصہ معاف کرنا چاہے تو معاف کردے۔
2۔ اگر فریقین کے درمیان دوبارہ بور کی کھدائی کا کوئی معاملہ طے پاتا ہے تو وہ ایک نیا عقد ہے فریقین باہمی رضامندی سے جس قدر چاہیں اجرت مقرر کے عقد کرسکتے ہیں
فقط واللہ اعلم
حوالہ: اجارہ