بیوی کی طلاق کو والدین سےملنے جانے پر معلق کیا، اگر وہ ملنے آئیں تو طلاق ہوجائے گی؟
سوال
میں نے ایک مرتبہ اپنے سسرال کے غلط رویہ کی وجہ سے وہاں سے واپس آکر اپنی بیوی مسماہ’’اریبہ ‘‘ کو یہ کہا کہ:’’اگر آج کے بعد تو اُن کو ملنے گئی تو میر ی طرف سے فارغ‘‘۔ اب وضاحت فرمائیں کہ :
1۔اگر میری بیوی وہاں اُ ن کو ملنے نہیں جاتی بلکہ وہ یہاں ملنے آئیں تو طلاق ہوگی؟
2۔اگر کسی اور جگہ عزیزواقارب کے ہاں جاتے ہیں وہاں اُن سے ملاقات ہوجاتی ہے ، تو کیا طلاق ہوجائے گی۔ ؟
جواب
صورت مسئولہ میں مسماۃ ’’اریبہ‘‘ اگر اپنے والدین کو ملنے کے ارادے سے جائے گی۔ تو اس پر طلاق واقع ہوجائے گی ، البتہ اگر اس کے گھر والے خود اس کو ملنے کیلئے آئیں یا یہ کسی اور مقصد سے کہیں جائے اور راستے میں یا کسی دوسرے کے گھر اتفاقی ملاقات ہوجائے تو ملنے سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔
’’ وإذا أضافہ إلی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقا مثل أن یقول لامرأتہ: إن دخلت الدار فأنت طالق ۔‘‘(ھندیہ، جلد:۱،صفحہ:۴۲۰)
’’إذا وجد الشرط انحلت الیمین ۔‘‘(ھندیہ، جلد:۱،صفحہ:۴۱۵)
۔فقط واللہ اعلم
حوالہ: طلاق