’’میری طرف سے تم آزاد ہو، اپنا سامان اُٹھوالینا‘‘سے طلاق کا حکم
سوال
میرے بہنوئی ’’احمد‘‘نے اپنی گھروالی(سائل کی بہن ) ’’لبیبہ ‘‘کو فون پر جھگڑا کرتے ہوئے کہاکہ : ’’میری طرف سے تم آزاد ہو۔‘‘ پھر کچھ دیر بعد میسج آیا کہ :’’اپنا سامان وغیرہ اٹھوا لینا۔ ‘‘شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا اس سے طلاق واقع ہوگئی ہے ، فریقین اگر دوبارہ آباد ہونا چاہیں تو اس کی کیا صورت ہے؟ ۔
جواب
’’ آزاد‘‘ کا لفظ ’’انت حرۃ‘‘ کے ہم معنٰی ہے۔اور ’’انت حرۃ‘‘ سے متعلق کتب فقہ میں صریح جزئیات موجود ہیں کہ: طلاق کی نیت سے کہے جائیں یا مذاکرۂ طلاق میں کہے جائیں یا غصے کی حالت میں طلاق کی نیت کے بغیر بھی کہے جائیں تینوں صورتوں میں طلاق بائنہ واقع ہوجاتی ہے۔ چنانچہ درمختارمیں ہے:
’’فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاکرۃ والکنایات ثلاث ما یحتمل الرد أو ما یصلح للسب أو لا ولا فنحو اخرجی واذہبی … یحتمل ردا ونحو خلیۃ بریۃ حرام … یصلح سبا ونحو اعتدی واستبریٔی … أنت حرۃ … لا یحتمل السب والرد ففی حالۃ الرضا أی غیر الغضب والمذاکرۃ تتوقف الأقسام الثلاثۃ تأثیرا علی نیۃ … وفی الغضب وقف الأولان إن نوی وقع وإلا لا وفی مذاکرۃ الطلاق یتوقف الأول فقط ویقع بالأخیرین وإن لم ینو‘‘(درمختار ،جلد:۳،صفحہ:۵۲)
صورت مسئولہ میں خاوند کا بعد میں یہ کہنا کہ :’’اپنا سامان وغیرہ اُٹھوالینا‘‘ اس سے طلاق والا متعین ہے۔
لہٰذا صورت مسئولہ میں مسماۃ ’’لبیبہ ‘‘ایک طلاق بائنہ کے ساتھ مسمّٰی ’’احمد‘‘ کے نکاح سے آزاد ہوچکی ہے، اگر واقعی ’’بلال احمد‘‘ نے اس پہلے کبھی کوئی طلاق نہیں دی اور فریقین آباد ہونا چاہتے ہیں تو دوبارہ نکاح کر کے آباد ہوسکتے ہیں۔
وینکح مبانتہ بما دون الثلاث فی العدۃ وبعدہا بالاجماع۔(شامیہ، ، جلد:۲،صفحہ:۷۳۸)
لیکن دوبارہ نکاح کے بعد بھی یہ طلاق گنتی میں رہے گی اور بلال احمد کو صرف دو طلاق کا حق حاصل ہوگا۔ فقط واللہ اعلم
حوالہ: طلاق