فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

والد کے انتقال کے بعد جائیداد کی شرعی تقسیم کا مکمل طریقہ

فتویٰ نمبر 522202610312 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

والد کے انتقال کے بعد جائیداد کی شرعی تقسیم کا مکمل طریقہ

سوال
میرے والد کا انتقال ہوچکا ہے، ورثاء میں ایک بیوہ، پانچ بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ مرحوم کے والدین کا انتقال پہلے ہی ہوچکا تھا۔ ہر ایک کا شرعی حصہ بتا دیں۔بينوا فتؤجروا
جواب
مسئلہ8/88 مضروب11 محمد شریف(متوفی) میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ  بیوہ بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی  1۔ 7 11 - 14 - 14 - 14 - 14 -14 - 7 کل حصے: 88 بیوہ: 11(حصے) فی بیٹا:  14(حصے) فی بیٹی:  7(حصے ) بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ محمد شريف(مرحوم) کا کل ترکہ 88 حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔ لما في الفتاوي الهندية:  التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهازه ودفنه، والدين،والوصية،والميراث  (كتاب الفرائض، 6/497 ط:قديمي)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض