کیا شوہر کو رجوع کے بعد دوبارہ تین طلاقوں کا اختیار مل جاتا ہے؟
سوال
ایک شخص کا نظریہ یہ ہے کہ اگر شوہر اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد رجوع کرلے تو طلاق ختم ہوجاتی ہے۔ شوہر کو مکمل تین طلاقیں دینے کا اختیار ہوتا ہے۔ آیا یہ بات شرعاًدرست ہے؟
جواب
اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو صریح الفاظ کے ساتھ طلاق دیدے تو عدت تک اسے رجوع کا حق حاصل ہوتا ہے۔
چنانچہ ہندیہ میں ہے :
’’وإذا طلق الرجل امرأتہ تطلیقۃ رجعیۃ أو تطلیقتین فلہ أن یراجعہا فی عدتھا رضیت بذلک أو لم ترض‘‘(ہندیہ، جلد:۱،صفحہ:۴۷۰)
اگر صریح طلاق دے کر ایک دوسرے سے الگ رہے اور عدت میں رجوع نہیں کیا تو عدت مکمل ہوتی ہی وہی ایک طلاق بائنہ میں تبدیل ہوجاتی ہے ، اور عورت اس شخص کے نکاح سے آزاد ہو جاتی ہے دوسری جکہ نکاح کرسکتی ہے، البتہ فریقین زندگی میں جب بھی باہم رضامندی سے دوبارہ آباد ہونے کا فیصلہ کریں تو نکاح کرنا لازم ہوگا۔
چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے:
’’فإن طلقہا ولم یراجعھا بل ترکہا حتی انقضت عدتھا بانت ۔‘‘‘
(بدائع ،کتاب الطلاق، فصل فی بیان حکم الطلاق الرجعی، جلد:۳،صفحہ:۱۸۰)
اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق بائنہ دیدے تو دوبارہ آباد ہونے کیلئے صرف رجوع کافی نہیں بلکہ دوبارہ نکاح لازم ہے۔ یہ عورت اگر کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنا چاہے تو عدت لازمی ہے ، لیکن اگر اسی طلاق دہندہ سے کرنا ہو تو عدت میں بھی ہوسکتا ہے اور عدت کے بعد بھی زندگی میں جب چاہیں نکاح کرسکتے ہیں۔
وینکح مبانتہ بما دون الثلاث فی العدۃ و بعدہا (بعد العدۃ) بالاجماع ومنع غیرہ فیہا‘‘
(شامیہ، جلد:۲،صفحہ:409، کتاب الطلاق، باب الرجعۃ ، مطلب فی العقد علی المبانۃ ، ط: ایچ ایم سعید)
بہر حال خواہ طلا ق صریح کے بعد فریقین میں رجوع ہو گیا ہو یا طلاق بائنہ کے بعد فریقین نے دوبارہ نکاح کر لیا ہو بہر صورت پہلی طلاق ختم نہیں ہوتی بلکہ گنتی میں رہتی ہے اس شوہر کو مستقبل میں صرف دو طلاقیں دینے کا اختیار باقی رہتا ہے ۔ ایسے دو طلاقیں دیں پھر رجوع کرلیا تو اب صرف ایک طلاق دینے کا اختیار ہوگا۔
عن أنس بن سيرين قال: سمعت ابن عمر قال: طلق ابن عمر امرأته وهي حائض، فذكر عمر للنبي صلى الله عليه وسلم فقال: ليراجعها قلت: تحتسب؟ قال: فمه.
(بخاري، كتاب الطلاق، باب إذا طلقت الحائض يعتد بذلك الطلاق، رقم الحديث: 2525)
قال العينيؒ: قوله: (ليراجعها) دليل على وقوع الطلاق في الحيض. قوله: (قلت: تحتسب) القائل أنس بن سيرين، وتحتسب على صيغة المجهول، أي: تحتسب طلقة من عدد الطلقات؟ (قال: فمه) أي: قال ابن عمر: فيه أصله فما للاستفهام وأبدل الألف: خاء أي، فما يكون إن لم تحتسب طلقة؟ ويحتمل أن يكون كلمة: مه، للكف والزجر أي: انزجر عنه فإنه لا شك في وقوع الطلاق. وكونه محسوبا في عدد الطلقات
(عمدة القاري ، كتاب الطلاق، باب إذا طلقت الحائض يعتد بذلك الطلاق، 20/ 228 ط: دار إحياء التراث العربي)
ترجمہ: "حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے اپنی بیوی کو ناپاکی کی حالت میں طلاق دے دی، پھر حضرت عمرؓ نے اس کا تذکرہ آپﷺ کے سامنے کیا تو آپﷺنے فرمایا:عبد اللہ کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کرلے۔ حضرت انس بن سرینؒ(راوی حدیث) کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا:کیا اس طلاق کو شمار کیا جائے گا تو کہا: کیوں نہیں۔ (یعنی اس طلاق کی شمار کیوں نہیں کریں گے)
بدائع میں ہے :
أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد۔
(بدائع ،کتاب الطلاق، فصل فی بیان حکم الطلاق الرجعی، جلد:۳،صفحہ:۱۸۰)
لما في المبسوط للسرخسيؒ:
وكذلك بعد الرجعة يبقى الطلاق واقعا
(كتاب الطلاق، باب ما تقع به الفرقة مما يشبه الطلاق، 6/ 84 ط:دارالمعرفة)
ترجمہ: "اور اسی طرح (طلاق سے ) رجوع کرلینے کے بعد (پہلے )واقع کی ہوئی طلاق باقی رہتی ہے"
ولما في البحر الرائق:
وإذا طلقها ثم راجعها يبقى الطلاق
(البحر مع منحة الخالق وتكملة الطوري، 3/ 253 ط:دارالكتاب الإسلامي)
هكذا في الفتاوى الهندية (كتاب الطلاق، 1/ 348 ط:دارالكتب العلمية)
ترجمہ: "اورجب شوہر بیوی کو طلاق دے دے پھر رجوع کرلے تو (دی ہوئی) طلاق باقی رہتی ہے"
لیکن تیسری طلاق کے بعد حرمت مغلظہ ثابت ہوجاتی ہے اور فریقین کے درمیان رجوع یا دوبارہ نکاح کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
حوالہ: طلاق