کرایہ پر دیے گئے مکان پر زکوٰۃ کا حکم
سوال
ميں پاکستان نیوی سےریٹائیر ہوں ، دورانِ ملازمت مجھے نیوی والوں نے اقساط پر رہائشی گھر دیا گیا، جس کی مطلوبہ رقم میں نے ادا کردی، اور ریٹائیر منٹ کے بعد میں نے اس میں رہائش اختیار کرلی، بعد ازاں ایک دوسرا مکان اپنی رہائش کی نیت سے تعمیر کیا، اور چند سالوں کے بعد دوسرے گھر میں رہائش اختیار کر لی، اس طرح پہلا مکان کرایہ پر دے دیا، جس کا ماہانہ کرایہ وصول کر رہا ہوں، میرا کوئی ارادہ دونوں گھروں میں سے کسی ایک کو بھی فروخت کرنے کا نہیں، پہلا مکان جس کا میں کرایہ وصول کر رہا ہوں، وہ چند سالوں سے میرے استعمال میں بطور رہائش نہیں ہے۔
لہٰذا پہلے مکان پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟ جزاك الله خيرا
جواب
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں کرایہ پر دئیے گئے مکان پر زکوۃ واجب نہیں ، البتہ اس سے حاصل شدہ آمدنی اگر نصاب کے بقدر ہے، یا پہلے سے صاحبِ نصاب ہے تو حاصل شدہ کرایہ قابلِ زکوۃ اموال میں شامل ہوکر زکوۃ واجب ہوگی۔
لما في الدر المختار:
ولا في ثیاب البدن وأثاث المنزل ودورالسکنی ونحوه
قال الطحطاويؒ: قوله ونحوها کحوانیت وخانات یستغلها
(الطحطاوي على الدر المختار، كتاب الزكاة، 1/392 ط: العربية، كوئته)
ولما في الفتاوى الهندية:
ولو اشترى قدورا من صفر يمسكها ويؤاجرها لا تجب فيها الزكاة كما لا تجب في بيوت الغلة (کتاب الزکاة، 1/ 180 ط: دارالفكر)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
حوالہ: زکات