فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

کیا گود لیے ہوئے بھتیجے کا نکاح بیٹی سے ہوسکتا ہے؟

فتویٰ نمبر 522202610305 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

کیا گود لیے ہوئے بھتیجے کا نکاح بیٹی سے ہوسکتا ہے؟

سوال
میں نے اپنے بھتیجے مسمیٰ کو گود لیا تھا، اور میں نے ہی اس کی پرورش کی، اب میں اس کی شادی اپنی بیٹی سے کرسکتا ہوں؟ جبکہ اس کو اس کی ماں نے ہی دودھ پلایا، میری گھر والی نے نہیں پلایا۔
جواب
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں مذکورہ لڑکی کا  نکاح آپ کے بیٹے سے  شرعاً جائز ہے؛کیونکہ لڑکے کااپنی چچازاد بہن سے نکاح کرنا جائز ہے اور گود لینے سے حقیقی بیٹا نہیں بن جاتا ۔ لقوله تعالىٰ: {وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ} [الأحزاب: 4] ترجمہ: "اللہ نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو حقیقی بیٹا نہیں بنایا، یہ تمہارے منہ کی باتیں ہیں"  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: کفالت و حوالہ