فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

منہ بولی اولاد کی ولدیت میں کس کا نام لکھا جائے؟

فتویٰ نمبر 522202610304 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

منہ بولی اولاد کی ولدیت میں کس کا نام لکھا جائے؟

سوال
میں نے اپنی بچی(سوداء) پیدا ہوتے ہی اپنے بھائی (جمیل)کو دے دی۔ہمیں مسئلہ کا علم نہیں تھا ۔ بھائی نے بچی کی ولدیت میں اپنا نام لکھوا دیا۔ اب بچی جوان ہے اور اب مسئلہ کا ہمیں علم ہوا ہے۔ آیا بچی کی ولدیت میں اس بچی کے ماموں (پالنے والے ) کا نام رہنے دیں؟ نیز بھائی کہتا ہے کہ بچی کی ولدیت میں اصل والد کا نام تب لکھنا ضروری ہے جب وراثت سے حصہ دینا ہو۔ لہٰذا میرا نام ہی لکھا رہے۔
جواب
سوداء کے شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات وغیرہ میں اس کے حقیقی والد کا نام ہی لکھنا ضروری ہے، پالنے والے کا نام لکھنا بالکل جائز نہیں ہے، بلکہ نبی کریمﷺ نے ایسے شخص کے بارے میں جو جان بوجھ کر اپنے آپ کو حقیقی والد کے غیر کی طرف منسوب کرے، اس پر جنت کو حرام قرار دیا ہے۔ عن سعد رضي الله عنه، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: «من ادعى إلى غير أبيه، وهو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام» (صحيح البخاري، كتاب الفرائض، باب من ادعى إلى غير أبيه، رقم الحديث: 6766، 8/ 156 ط: دار طوق النجاة) نیز ارشادِ خداوندی ہے: {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ} [الأحزاب: 5] ترجمہ: "ان کو انکے باتوں کے نام سے پکارو، یہی اللہ(تعالیٰ) کے ہاں زیادہ انصاف والا(معاملہ) ہے" اور تفسیر روح المعانی میں ہے: ويعلم من الآية أنه لا يجوز إنتساب الشخص إلى غير أبيه (روح المعاني، الأحزاب: 5، 21/ 149 ط: إحياء التراث العربي) ترجمہ: "اور آیت سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ کسی شخص کو اس کے والد کے غیر کی طرف منسوب کرنا جائز نہیں ہے" الحاصل حقیقی والد کے بجائے پالنے والے کا نام لکھنا حرام وگناہ ہے۔ باقی جمیل نے جو خط کشیدہ وجہ بیان کی ہے، یہ قانوناً ہے، شرعاً نہیں۔ شرعی ضابطہ سے حقیقی والد کا نام ہی لکھنا ضروری ہے۔ نیز یہ بچی جمیل اور اس کی بیوی کے ترکہ سے شرعاً محروم رہے گی، البتہ حقیقی والدین سے وراثت میں دیگر بہن بھائیوں کے ساتھ شریک ہوگی۔ فقط واللہ اعلم
حوالہ: حقوق و آدابِ معاشرت