جہیز کے سامان کی شرعی تقسیم کا طریقہ
سوال
میری بھابھی مسماۃ ریحانہ بی بی کا انتقال ہوگیا ہے۔ ورثاء میں شوہر، والدہ،والد ، ۲ بہنیں اور ۴ بھائی ہیں۔ مرحومہ لاولد تھیں۔ ترکہ میں جہیز کا سامان ہے۔ ہر ایک کا شرعی حصہ بتا دیں۔
جواب
مسئلہ6
میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
شوہر۔ والدہ ۔والد ۔۲بہنیں۔۴بھائی
3---- 1--- 2---- محروم
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ مرحومہ کا کل ترکہ(سونا و جہیز کا سامان وغیرہ) 6 (چھ) حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔ تین حصے شوہر کو ایک حصہ والدہ کو ار بقیہ دو حصے والد کو ملیں گے۔
باقی مرحومہ کے تمام بہن بھائی والد کے موجودگی میں ترکہ سے شرعاً محروم رہیں گے۔
لما في رد المحتار:
وبنو الأعيان وبنو العلات كلهم يسقطون بالابن وابن الابن وإن سفل وبالأب بالاتفاق
(الرد مع الدر، كتاب الفرائض، 6/ 782 ط: دارالفكر)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض