فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

جاواں کمپنی میں سرمایہ کاری اور منافع لینے کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 522202610295 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

جاواں کمپنی میں سرمایہ کاری اور منافع لینے کا شرعی حکم

سوال
جاواں کمپنی تقریباً ۱۸۰۰۰روپے کے ڈالر مثلاً۵۰ ڈالر لیتی ہے، پھر ڈالر کے کم یا زیادہ ہونے کی صورت میں نفع دیتی ہے، مثلا ۵۰ ڈالر پر یومیہ ایک ڈالر یا دو ڈالر دیتی ہے۔ہرماہ ۱۵ سے ۲۰ ڈالر دیتی ہے۔ یہ نہیں بتاتی کہ آپ کی رقم کس کاروبار میں لگا رکھی ہے۔ معاملہ کی کل مدت متعین نہیں۔ نیز نقصان کی صورت میں ذمہ داری کون فریق اٹھائے گا ، معلوم نہیں۔ آیا جاواں کمپنی میں شرکت کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ کسی کاروبار میں شرکت کے جواز کے لئے درج ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری ہے : ۱۔ ابتداء ہی میں نفع کا تناسب طے کرلیا جائے۔  ۲۔ نقصان ہر فریق اپنے سرمایہ کے بقدر برداشت کرے گا۔  اگر ان میں سے ایک شرط بھی مفقود ہوگئی تو معاملہ ناجائز ہوجائے گا۔ اس تفصیل یہ معلوم ہوا کہ جاواں کمپنی میں شراکت نہ کی جائے؛کیونکہ اولاً تو نفع کا تناسب ہی معلوم نہیں کہ ہر فریق کتنے فیصد نفع کا مستحق ہے، بلکہ بظاہر یہی ہے کہ کمپنی سرمایہ کے تناسب سے یا بغیر طے کئے کیف ما اتفق نفع دیتی ہے، جوکہ جائز نہیں ہے۔ نیز نقصان کی صورت میں فریقین کس تناسب سے برداشت کریں، کوئی طے نہیں کیا گیا، بلکہ بظاہر یہی ہے کہ نقصان مکمل کمپنی برداشت کرتی ہے، اور یہ مفسد للعقد ہے۔  لما في الهداية:  قال: "ولا تجوز الشركة إذا شرط لأحدهما دراهم مسماة من الربح" لأنه شرط يوجب انقطاع الشركة فعساه لا يخرج إلا قدر المسمى لأحدهما  (كتاب الشركة، فصل: لا تنعقد الشركة إلا بالدراهم، 3/ 11 ط: دار احياء التراث العربي)  ولما في تبيين الحقائق:  قال - رحمه الله - (وتفسد إن شرط لأحدهما دراهم مسماة من الربح) لأنه شرط يوجب انقطاع الشركة في بعض الوجوه فلعله لا يخرج إلا القدر المسمى لأحدهما من الربح  (التبيين مع حاشية الشلبي كتاب الشركة، 3/ 319 ط: المطبعة الكبرى الأميرية)  هكذا في البحر الرائق (البحر مع منحة الخالق وتكملة الطوري، كتاب الشركة، 5/191 ط: دار الكتاب الإسلامي)  ولما في بدائع الصنائع:  إذا شرطا الربح على قدر المالين متساويا أو متفاضلا، فلا شك أنه يجوز ويكون الربح بينهما على الشرط سواء شرطا العمل عليهما أو على أحدهما والوضيعة على قدر المالين متساويا ومتفاضلا  (كتاب الشركة،فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركة، 6/ 62 ط:دارالكتب العلمية)  ولما في مجلة الأحكام العدلية:  الضرر والخسارة التي تحصل بلا تعد ولا تقصير تقسم في كل حال بنسبة مقدار رءوس الأموال وإذا شرط خلاف ذلك فلا يعتبر  (الكتاب العاشر في الشركات، الباب السادس: في بيان شركة العقد، الفصل الخامس: في شركة الأموال والأعمال والوجوه من شركة المفاوضة، رقم المادة 1369، ص: 263 ط:نور محمد)  الحاصل مذکورہ جاواں کمپنی میں شرکت کرنا جائز نہیں ہے۔  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: آبق ومفقود