فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

گھروں میں پالتو بلیاں رکھنے اور ان کی خرید و فروخت کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 522202610294 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

گھروں میں پالتو بلیاں رکھنے اور ان کی خرید و فروخت کا شرعی حکم

سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل غیر ممالک سے برآمد شدہ مختلف قسم کی بلیوں ، جو انسانوں سے کافی مانوس ہوتی ہیں، ان کو لوگ بڑے شوق سے گھروں میں رکھتے ہیں۔ ان کی خوراک وغیرہ کا خیال رکھتے ہیں۔ اور ان بلیوں کو گندگی ،پیشاب وغیرہ کے بارے میں سدھائی ہوئی ہوتی ہیں، مقررہ جگہ واش روم وغیرہ میں ہی پیشاب کرتی ہیں۔ ان بلیوں ،ان کے بچوں کو گھروں میں رکھنا اور ان کی خرید و فروخت کا کیا حکم ہے؟
جواب
واضح رہے کہ بلیوں کو پالنے کی شرعاً گنجائش ہے، جیساکہ حضرت ابو ھریرہؓ کی کنیت "بلی" کے پالنے کی وجہ سے رکھی گئی۔ لما في سير أعلام النبلاء:  ويقال: كان في الجاهلية اسمه عبد شمس، أبو الأسود، فسماه رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: عبد الله، وكناه أبا هريرة.والمشهور عنه: أنه كني بأولاد هرة برية.قال: وجدتها، فأخذتها في كمي، فكنيت بذلك.  (فصل في بقية كبراء الصحابة، ترجمة أبي هريرة الدوسي عبد الرحمن بن صخر، 2/ 579 ط:الرسالة)  آپﷺ نے بلی کو متاع البیت قرار دیا ہے۔  عن أبي هريرة، قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "الهرة لا تقطع الصلاة، لأنها من متاع البيت" (سنن ابن ماجه ، 1/ 241 رقم:369ط:دار الرسالة العالمية)  قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: إنها ليست بنجس، هي من الطوافين أو الطوافات"  (سنن ابن ماجه، 1/ 240 رقم:367 ط:دار الرسالة العالمية)  بلیوں کی خریدوفروخت شرعاً درست ہے۔  لما في رد المحتار: بيع الكلب المعلم عندنا جائز، وكذا السنور، وسباع الوحش والطير جائز معلما أو غير معلم  (الرد مع الدر، کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، 5/ 69 ط:سعيد)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: حقوق و آدابِ معاشرت