فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

قبضہ کے بغیر ہبہ کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 428202610289 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

قبضہ کے بغیر ہبہ کا شرعی حکم

سوال
میرے والد نے دوسری شادی کی تو نکاح نامہ میں صفحہ ؀۲ کی شق ۱۷(خاص شرائط اگر کوئی ہوں) میں لکھا : "150000 لاکھ کے زیورات اور ایک مکان نمبرفلاں(مکمل ایڈریس کے ساتھ لکھا) تحفہ میں دیا گیا" یہ مکان کرایہ پر دیا ہوا تھا۔ جس کا کرایہ والد ہی تا حیات وصول کرتے رہے۔ بیوی کو نہ دیا گیا۔ پھر والد نے خود اپنی مرضی سے اس کو فروخت کردیا تھا۔اور رقم کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ کہاں خرچ کی۔اب دوسری والدہ مطالبہ کرتی ہیں کہ یہ میرے حق مہر میں تھا۔ لہٰذا مجھے اس کا متبادل دیا جائے۔
جواب
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں مذکورہ مکان گفٹ/ھبہ ہوا، حق مہر نہ تھا۔ لہٰذا اسمیں سعیدہ کی ملکیت آنے کیلئے ھبہ کی شرائط کا پایا جانا ضروری تھا،جبکہ یہاں قبضہ نہیں دیا گیا ،جس سے اس کی ملکیت ہی نہ آئی۔ اس لئے یہ گفٹ/ ھبہ شرعاً درست نہ ہونے کی وجہ سے سعیدہ کا اس کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔ الفتاوى الهندية:  ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة  (كتاب الهبة، الباب الثاني فيما يجوز من الهبة، 4/ 377 ط: دارالكتب العلمية)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: معاملات