قبضہ کے بغیر ہبہ کا شرعی حکم
سوال
میرے والد نے دوسری شادی کی تو نکاح نامہ میں صفحہ ۲ کی شق ۱۷(خاص شرائط اگر کوئی ہوں) میں لکھا :
"150000 لاکھ کے زیورات اور ایک مکان نمبرفلاں(مکمل ایڈریس کے ساتھ لکھا) تحفہ میں دیا گیا"
یہ مکان کرایہ پر دیا ہوا تھا۔ جس کا کرایہ والد ہی تا حیات وصول کرتے رہے۔ بیوی کو نہ دیا گیا۔ پھر والد نے خود اپنی مرضی سے اس کو فروخت کردیا تھا۔اور رقم کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ کہاں خرچ کی۔اب دوسری والدہ مطالبہ کرتی ہیں کہ یہ میرے حق مہر میں تھا۔ لہٰذا مجھے اس کا متبادل دیا جائے۔
جواب
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں مذکورہ مکان گفٹ/ھبہ ہوا، حق مہر نہ تھا۔ لہٰذا اسمیں سعیدہ کی ملکیت آنے کیلئے ھبہ کی شرائط کا پایا جانا ضروری تھا،جبکہ یہاں قبضہ نہیں دیا گیا ،جس سے اس کی ملکیت ہی نہ آئی۔ اس لئے یہ گفٹ/ ھبہ شرعاً درست نہ ہونے کی وجہ سے سعیدہ کا اس کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔
الفتاوى الهندية:
ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة
(كتاب الهبة، الباب الثاني فيما يجوز من الهبة، 4/ 377 ط: دارالكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
حوالہ: معاملات