عورت کا سوئمنگ پول میں نہانے کیلئے جانے کا حکم
سوال
اگر کوئی عورت پورے پردے اور حجاب کا اہتمام کرے، یہاں تک کہ اس کے بال بھی اچھی طرح چھپے ہوئے ہوں، تو کیا اس کے لیے کسی پرائیویٹ سوئمنگ پول میں دیگر خاندان کی عورتوں کے ساتھ جا کر نہانے کی شرعی اجازت ہے؟
جواب
دینِ اسلام نے عورت کو پردے اور حیا کا حکم دے کر اس کی عزت کی حفاظت کی ہے اور اسے بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنے اور زمانہ جاہلیت کی طرح سرِعام گھومنے پھرنے سے روکا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”عورت چھپانے کی چیز ہے، جب وہ (بلا ضرورت) باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے دوسروں کی نظروں میں لانے کی کوشش کرتا ہے“۔
البتہ اگر کوئی حقیقی یا شرعی مجبوری ہو، جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو، تو عورت کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت ہے، بشرطیکہ وہ ایسا مکمل پردہ کرے جو سادہ ہو، جسم کو پوری طرح ڈھانپے اور اس میں کوئی چمک دمک یا فیشن نہ ہو جو لوگوں کی نظروں کو اپنی طرف کھینچے۔
اس تمہید کے بعد سوال کا جواب یہ ہے کہ عورتوں کے لیے سوئمنگ پول میں نہانا شرعی طور پر جائز نہیں ہے، خواہ وہ پردے والے لباس کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی چند بڑی وجوہات درج ذیل ہیں:
بلا ضرورت سفر: پبلک سوئمنگ پول میں جانا کوئی ایسی مجبوری یا لازمی ضرورت نہیں ہے جس کے لیے عورت کا گھر سے نکلنا درست ہو۔
غیر محرموں پر نظر پڑنا: ایسی جگہوں پر عام طور پر مردوں کا آنا جانا یا وہاں موجود ہونا لازم آتا ہے، جس سے غیر محرموں پر نظر پڑنے کا گناہ ہوتا ہے۔
جسم کا نمایاں ہونا: پانی میں نہانے سے کپڑے گیلے ہو کر جسم کے ساتھ چِپک جاتے ہیں، جس سے پردے کا اصل مقصد ختم ہو جاتا ہے اور جسم کے اعضاء کی بناوٹ صاف ظاہر ہونے لگتی ہے۔
حیا کے خلاف ہونا: ایسے مقامات پر اس طرح نہانا عورت کی فطری حیا، شرم اور نسوانیت کے مزاج کے بالکل خلاف ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ."
(سورۃ الاحزاب، آیت 33)
تفسیر بیان القرآن میں ہے:
”تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو (مراد اس سے یہ ہے کہ محض کپڑا اوڑھ لپیٹ کر پردہ کرلینے پر کفایت مت کرو بلکہ پردہ اس طریقے سے کرو کہ بدن مع لباس نظر نہ آوے جیسا آج کل شرفاء میں پردہ کا طریقہ متعارف ہے کہ عورتیں گھروں ہی سے نہیں نکلتیں، البتہ مواقع ضرورت دوسری دلیل سے مستثنیٰ ہیں)“
(سورۃ الاحزاب، ج:3، ص:174، ط:رحمانیہ)
سنن ترمذی کی حدیث میں ہے:
"عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: المرأة عورة، فإذا خرجت استشرفها شیطان."
(ابواب الرضاع، ج:3، ص:468، ط:مطبعة مصطفی البابی)
اس طرح ایک اور حدیث میں ہے:
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَال: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ، أَنَّ نِسَاءً مِنْ أَهْلِ حِمْصَ، أَوْ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ دَخَلْنَ عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: أَنْتُنَّ اللَّاتِي يَدْخُلْنَ نِسَاؤُكُنَّ الْحَمَّامَاتِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا مِنَ امْرَأَةٍ تَضَعُ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَّا هَتَكَتِ السِّتْرَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ رَبِّهَا.
ترجمہ:
ابوملیح ہذلی سے روایت ہے کہ اہل حمص یا اہل شام کی کچھ عورتیں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئیں تو انہوں نے کہا: تم وہی ہو جن کی عورتیں حمامات (عوامی غسل خانوں) میں نہانے جایا کرتی ہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو عورت اپنے شوہر کے گھر کے سوا اپنے کپڑے کہیں دوسری جگہ اتار کر رکھتی ہے، وہ عورت اپنے اور اپنے رب کے درمیان موجود پردے کو پھاڑ دیتی ہے“۔(جامع ترمذی، کتاب آداب اور اجازت لینے کا بیان، باب: حمام میں جانے کے بارے میں، حدیث نمبر: 2803)
فتاویٰ بزازیہ میں ہے:
"ولا يأذن بالخروج الي المجلس الذي يجتمع فيه الرجال والنساء وفيه المنكرات."
(فتاوي بزازيه علي هامش الهندية، كتاب النكاح، الثامن عشر في الحظر والاباحة، ج:4، ص:157، ط:رشيدية)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
حوالہ: حظر و اباحت