فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

نابالغ بچیوں کا نکاح: ولی کی اجازت سے درست یا باطل؟

فتویٰ نمبر 330202610279 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

نابالغ بچیوں کا نکاح: ولی کی اجازت سے درست یا باطل؟

سوال
نابالغ بہنوں کا نکاح والد کی اجازت اور مرضی کے مطابق ایک جگہ کردیا گیا ، تو بالغ ہونے پر انہیں خیارِ بلوغ حاصل ہوگا؟ کیا نابالغ بچیوں سے بھی ایجاب وقبول کی ضرورت ہوتی ہے ؟ بعد میں اگروالد خود یا لڑکی رخصتی سے انکار کردے تو کیا اسے انکار کا حق ہے؟ اگر والد دوسری جگہ نکاح کردے تو پھر کیا حکم ہے؟
جواب
واضح رہے کہ جب والد اپنی نا بالغ بچی کا نکاح کروا دے تو وہ منعقد ہوکر لازم ہوجاتا اور بالغ ہونے پر خیارِ بلوغ حاصل نہیں ہوتا۔نکاح منعقد ہونے کیلئے بچیوں سے ایجاب وقبول کرانے کے لغو عمل کی ضرورت نہیں ہے۔ لما في فتح القدير للكمال ابن الهمامؒ:  (فإن) (زوجهما الأب والجد) يعني الصغير والصغيرة (فلا خيار لهما بعد بلوغهما)  (كتاب النكاح، باب الأولياء، 3/ 277 ط: دارالفکر) والد یا  لڑکی کا رخصتی سے انکار کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ اور دوسری جگہ نکاح کرنا  شرعاً حرام و ناجائزہے۔ لما فی الفتاوى الهندية: لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة.  (کتاب النکاح، 1 / 280 ط:دارالفکر)  ولما فی البحر الرائق:  والسادس المحرمة لحق الغير كمنكوحة الغير ومعتدته۔۔۔  (کتاب النکاح،8 / 10 ط: دارالکتاب الإسلامي)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: نکاح