فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

بیوہ اور بھائیوں کی موجودگی میں ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ

فتویٰ نمبر 326202610275 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

بیوہ اور بھائیوں کی موجودگی میں ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ

سوال
میرے بھائی کا انتقال ہو چکاہے، ورثاء میں ایک بیوہ، دو بھائی زندہ ہیں۔مرحوم کی اولاد پیدا ہونے کے ایک دن بعد اتنقال کر گئی تھی۔اور والدين كا انتقال مرحوم کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا۔ ہر ایک کا شرعی حصہ بتا دیں۔
جواب
مسئلہ4/8 مضروب2 (متوفی) میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بيوه ۔بھائی۔ بھائی 2 ۔3 ۔3 بر تقدیر صحت واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ متوفی کاکل ترکہ 8(آٹھ) حصے ہوکر حسب تفصیل ِبالا تقسیم ہوگا، دو حصے بیوہ کو اور تین تین حصے ہر بھائی کو ملیں گے ، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض