فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

حقیقی بھائی کی موجودگی میں علاتی بہن بھائیوں کا وراثت میں حکم

فتویٰ نمبر 324202610272 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

حقیقی بھائی کی موجودگی میں علاتی بہن بھائیوں کا وراثت میں حکم

سوال
ایک شخص فوت ہوگیا، جس کے ورثاء میں ایک حقیقی بھائی، ایک علاتی بھائی اور دو علاتی بہنیں حیات ہیں۔مرحوم کی اولاد کوئی نہیں ہے اور مرحوم کے والدین اور بیوی کا انتقال پہلے مرحوم کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا ۔ترکہ میں زمین 5 کنال 8 مرلےہے۔ ہر ایک کا شرعی حصہ بتادیں۔
جواب
مسئلہ1 ۔۔۔۔۔۔(متوفی) میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ حقیقی بھائی ۔علاتی بھائی۔ 2علاتی بہنیں      1۔محروم ۔محروم     بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ متوفی کے کل ترکہ کا حقدار اس کا حقیقی بھائی ہے۔علاتی بھائی اور علاتی بہنیں حقیقی بھائی کے موجود ہونے کی وجہ سے متوفی کے ترکہ سے شرعاً محروم رہیں گے۔ جیساکہ سراجی میں ہے: ويسقط بنو العلّات أيضا بالأخ لأب وأم۔۔۔الخ (باب الأحوال، فصل في النساء، أحوال الأخت لأب ، ص43 ط:بشرى مجلد)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض