فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

قسطوں پر خریدے گئے پلاٹ میں بعد از معاہدہ اضافی رقم کا مطالبہ کرنے کا حکم

فتویٰ نمبر 324202610271 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

قسطوں پر خریدے گئے پلاٹ میں بعد از معاہدہ اضافی رقم کا مطالبہ کرنے کا حکم

سوال
میں نے خالد سے کالونی کا پلاٹ خریدا، اور ہماری کل قسطیں طے ہوگئیں اور یہ بھی طے ہوا کہ میں ان قسطوں کے علاوہ کوئی رقم نہیں دوں گا۔ اب جب 100 قسطیں ادا کرچکا ہوں اور پلاٹ انتقال کرانے کا موقع آیا تو اب مرزا صاحب کہتے ہیں کہ حکومت نے ٹیکس لگادیا ہے، لہٰذا وہ ادا کریں گے تو میں انتقال کرا دوں گا۔ یہ یقینی طور پر معلوم نہیں کہ کس چیز کا ٹیکس ہے ۔ نیز خالد نے مجھے بتائے بغیر ازخود ٹیکس ادا کردیا ہے۔ آیا ان کا مزید رقم کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں اگر یہ رقم زمین مشتری کے نام کروانے کی مد میں خالد لے رہا ہے تو اس کا مطالبہ جائز ہے ؛ کیونکہ زمین ، گاڑی وغیرہ مشتری کے نام کرانے کے اخراجات مشتری کے ذمّہ ہوتے ہیں نہ کے بائع کے ذمّہ ۔ لہٰذا خالد یہ رقم لینے میں حق بجانب ہے، اگر خالد نے یہ رقم مشتری کے کہے بغیر گورنمنٹ کو ادا کردی ہے تب وہ خالد سے یبنہ  رقم لے سکتا ہے ، کیونکہ پلاٹ خریداروں کے نام کرانے کی ذمّہ داری ، قانونی کارروائی کالونی بنانے والوں کی ہوتی ہے ، اس لیے خالد نے اپنا کام کیا ہے جو اس کے ذمّہ تھا ، اگر وہ پلاٹ نام نہ کراتا تو سائل کو مزید نقصان اُٹھنا پڑتا لہٰذا اخراجات خالد ادا کرنے کا پابند ہے۔  اور اگر یہ اخراجات پلاٹ انتقال کرانے کی مد میں نہیں ہیں بلکہ زمین کی مالیت بڑھنے کی وجہ سے ہے تو خالد  کا سائل سے مزید رقم کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ، کیونکہ سودا طے ہوجانے کے بعد بائع کا زائد رقم کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ہوتا ۔ اور زیرِ بحث صورت میں بھی سودا مکمل ہوچکا ہے۔ الفتاوى الهندية: ’’ وإذا حصل الإيجاب والقبول لزم البيع ‘‘  (كتاب البيوع، الباب الثاني فيما يرجع إلى انعقاد البيع، الفصل الأول ، 3/ 8 ط:دارالفكر)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: معاش و اموال