دو مساجد کے قریب ہونے کی صورت میں جمعہ کی اجازت کا شرعی اصول
سوال
ہماری مسجد "امی عائشہ صدیقیہؓ" بستی رانگھو محمود کوٹ شہر، ضلع مظفر گڑھ میں جمعہ شروع کرنے کا ارادہ ہے۔ ہماری مسجد "فاروقِ اعظمؓ مسجد" سے متصل ہے اور وہاں پہلے سے جمعہ قائم کیا جارہا ہے۔اور وہ محمود کوٹ سے ملی ہوئی ہے، آیا ہم اپنی مسجد میں جمعہ نماز پڑھ سکتے ہیں؟
جواب
مسجد "امی عائشہ صدیقیہؓ" بستی رانگھو محمود کوٹ کامحمود کوٹ کے ساتھ بذریعہ سڑک اتصال نہیں ہے، تاہم مسجد کے عقب میں اس کا اتصال مسجد "فاروقِ اعظمؓ"سے ہوجاتا ہے، اگرچہ درمیان میں کچھ فاصلہ سے مکانات ہیں، لیکن وہ فاصلہ قلیل ہے،جسے فصل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اور مسجد "فاروقِ اعظمؓ"کا بواسطہ سڑک محمودکوٹ سے اتصال ہےاور وہاں پہلے سے ہی جمعہ قائم کیا جارہا ہے۔
الحاصل مسجد "امی عائشہ صدیقیہؓ" محمود کوٹ کے فناء میں واقع ہے اور فناءِ مصر میں جمعہ قائم کرنے کو فقہاء احنافؒ نے جائز قرار دیا ہے، لہٰذا یہاں جمعہ قائم کیا جاسکتا ہے۔
المحيط البرهاني في الفقه النعماني:
كما يجوز إقامة الجمعة في المصر يجوز إقامتها خارج المصر قريباً منه نحو مصلى العيد؛ لأن مصلى العيد أبداً يكون في فناء المصر، وفناء المصر ألحق بالمصر فيما كان من حوائج أهل المصر وأداء الجمعة من حوائج أهل المصر، فيلحق بالمصر في أداء الجمعة۔۔۔ وفي «فتاوى أبي الليث رحمه الله» : شرط الفناء نصاً، فقال: ويجوز إقامة الجمعة خارج المصر إذا كان في فناء المصر
(كتاب الصلاة، الفصل الخامس والعشرون في صلاة الجمعة، 2/ 66 ط: دار الكتب العلمية، بيروت)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
حوالہ: نماز