فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

کرایہ کی دکان آگے زیادہ کرایہ پر دینا کیسا ہے؟

فتویٰ نمبر 324202610261 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

کرایہ کی دکان آگے زیادہ کرایہ پر دینا کیسا ہے؟

سوال
خالد نے دکان چار لاکھ ایڈوانس اور آٹھ ہزار ماہانہ کرایہ پر لی ، پھر میں(ناصر) نے خالد کے ساتھ مل کر اس دکان میں مشترکہ کاروبار کیا جو اب ختم ہوچکا ہے۔۔۔ ، اب میں وہ دکان اس سے پانچ لاکھ ایڈوانس اور دس ہزار ماہانہ کرایہ پر لیناچاہتا ہوں۔ آیا میں اس سے دکان کرایہ پر لے سکتا ہوں؟جبکہ اس نے اس دکان میں لکڑی کا کام، رنگ وروغن وغیرہ کرایا ہے۔
جواب
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں اگر ناصر دکان میں ایسا کام نہ کرے جس سے دکان کو نقصان ہو تو خالد کا اس کو دکان زیادہ ایڈوانس اور کرایہ لے کر دینا جائز ہے؛کیونکہ خالد کے اس میں مزید کام کروانے کی وجہ سے اس کیلئے اصل مالک سے طے شدہ کرایہ سے زائد کرایہ لیناجائز ہے۔ البحر الرائق:  فله أن يسكنها بنفسه ويسكنها غيره بإجارة وغيرها  (البحر مع منحة الخالق وتكملة الطوري، كتاب الإجارة، باب ما يجوز من الإجارة، 7/ 304 ط:دارالكتاب الإسلامي)  ولما في الدر المختار:  (وله السكنى بنفسه وإسكان غيره بإجارة وغيرها) وكذا كل ما لا يختلف بالمستعمل يبطل التقييد؛ لأنه غير مفيد، بخلاف ما يختلف به كما سيجيء، ولو آجر بأكثر تصدق بالفضل إلا في مسألتين: إذا آجرها بخلاف الجنس أو أصلح فيها شيئا  (الدر مع الرد، كتاب الإجارة، باب ما يجوز من الإجارة، 6/ 28، 29 ط:دارالفكر)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: مزارعت