مشاع جائیداد اور نابالغ کو ہبہ کرنے کی صورت میں شرعی تقسیم
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد صاحب نے اپنا مکان واقع دس مرلے خریدا اور اپنے سسر کے نام کروا لیا، پھر بعد میں انھوں نے اپنی بیوی اور لے پالک بیٹی جو اس وقت نابالغ تھیں کے نام آدھا آدھا کروا دیا اور وفات تک حد بندی نہیں کی کہ کس جانب کے پانچ مرلے بیوی کے ہیں اور کس جانب کے لے پالک بیٹی کے ہیں۔ اب وہ وفات پاچکے ہیں۔ مرحوم کے ورثاء میں ایک حقیقی بیٹا اور حقیقی بیٹی اور ایک لے پالک بیٹی ہیں۔ بیوی بھی ان کی وفات کے بعد وفات پاچکی ہیں۔ ان کے بھی یہی تین ورثاء ہیں۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ بیوی کا حصہ شرعاً کیسے تقسیم ہوگا؟ اور لے پالک بیٹی کے نام جو حصہ ہے، آیا وہی اس کی حقدار ہے ؟
جواب
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت ِ مسئولہ میں شفیق احمد طاہر کے مکان کو دو افراد بیوی اور بیٹی کو اکٹھے ھبہ (گفٹ) کرنے کی وجہ سے یہ ھبہ(گفٹ) مکمل نہیں ہوا؛کیونکہ جب ایک سے زائدافراد (خواہ ان میں کوئی نابالغ ہو ) کو قابلِ تقسیم جائیداد ھبہ (گفٹ) کی جائے اور حد بندی نہ کی جائے تو یہ ھبہ مشاع ہے، جو کہ فاسد ہے، جس سے دوسرے کی ملکیت نہیں آتی، بلکہ بدستور ھبہ(گفٹ) کرنے والے ہی کی ملکیت برقرار رہتی ہے۔ اس لئے مذکورہ مکمل مکان شفیق احمد طاہر کی ملکیت شمار ہوگااور اب ان انتقال کے بعد ان کے ورثاء بیٹے اور بیٹی میں تقسیم ہوگا۔لے پالک کا شرعاً اس میں حصہ نہ ہوگا۔لما في العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية:
وقيدنا بكون الموهوب لهما كبيرين؛ لأنه لو وهب من اثنين أحدهما صغير والآخر كبير والصغير في عياله لم تجز الهبة اتفاقا؛ لأنه حين وهب صار قابضا حصة الصغير فبقي النصف الآخر شائعا كذا في المحيط (كتاب الهبة، 2/ 88،89 ط:دار المعرفة)
ولما في الفتاوى الهندية:
وذكر الحاكم وهب دارا لابنين له أحدهما كبير والآخر صغير وقبض الكبير أنها باطلة وهو الصحيح؛ لأن هبة الصغير منعقدة حال مباشرة الهبة لقيام قبض الأب مقام قبضه وهبة الكبير محتاجة إلى قبول فسبقت هبة الصغير فتمكن الشيوع
(كتاب الهبة، آخر الباب السادس في الهبة للصغير، 4/ 393 ط:رشيدية)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض