ورثاء میں ایک بیوہ، ۴ بیٹے اور ۲ بیٹیاں ہوں تو وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ
سوال
میرے والد کا انتقال ہوچکا ہے، مرحوم کے ورثاء میں ایک بیوہ، ۴ بیٹے اور ۲ بیٹیاں ہیں۔ ترکہ میں 3،86،40،000 روپے ہے۔ ہر ایک کا حصہ بتا دیں۔
جواب
مسئلہ8/80 مضروب10 تركہ 386،40،000 حاجی محمد یوسف(متوفی)
یتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیوہ۔ بیٹا ۔بیٹا۔ بیٹا۔ بیٹا۔ بیٹی۔ بیٹی
1۔ 7
10۔ 14۔ 14۔ 14 ۔14۔ 7 ۔7
بیوہ =48،30،000 فی بیٹی: 67،62,000
فی بیٹا: 33810000 بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ حاجی محمد یوسف(مرحوم) کا
کل ترکہ 80حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔
فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض