فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

ورثاء میں ایک بیوہ، ۴ بیٹے اور ۲ بیٹیاں ہوں تو وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ

فتویٰ نمبر 307202610239 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

ورثاء میں ایک بیوہ، ۴ بیٹے اور ۲ بیٹیاں ہوں تو وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ

سوال
میرے والد کا انتقال ہوچکا ہے، مرحوم کے ورثاء میں ایک بیوہ، ۴ بیٹے اور ۲ بیٹیاں ہیں۔ ترکہ میں 3،86،40،000 روپے ہے۔ ہر ایک کا حصہ بتا دیں۔
جواب
مسئلہ8/80 مضروب10 تركہ 386،40،000 حاجی محمد یوسف(متوفی)  یتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ  بیوہ۔ بیٹا ۔بیٹا۔ بیٹا۔ بیٹا۔ بیٹی۔ بیٹی 1۔ 7 10۔ 14۔ 14۔ 14 ۔14۔ 7 ۔7 بیوہ =48،30،000  فی بیٹی: 67،62,000 فی بیٹا: 33810000 بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ حاجی محمد یوسف(مرحوم) کا  کل ترکہ 80حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔ فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض