فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

ورثاء میں 6بیٹیاں، جبکہ ساتویں پہلے وفات پاجائے ، ۲ بھائی، ۳ بہنیں ہوں تو وراثت کی تقسیم کا طریقہ

فتویٰ نمبر 307202610238 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

ورثاء میں 6بیٹیاں، جبکہ ساتویں پہلے وفات پاجائے ، ۲ بھائی، ۳ بہنیں ہوں تو وراثت کی تقسیم کا طریقہ

سوال
ایک عورت وفات پاگئی ہیں۔ورثاء میں ۷ بیٹیاں ہیں، جن میں سے ایک بیٹی مرحومہ کی زندگی میں ہی وفات پاگئی تھی۔ چھ بیٹیاں زندہ ہیں، ۲ بھائی اور ۳ بہنیں ہیں۔مرحومہ کے شوہر اور والدین کا انتقال زندگی میں ہی ہوگیا تھا۔ہر ایک شرعی حصہ بتادیں۔
جواب
مسئلہ3/63 مضروب21 (متوفیہ) میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ   بیٹی ۔بیٹی۔ بیٹی۔ بیٹی۔ بیٹی ۔بیٹی ۔بہن۔ بہن۔ بہن۔ بھائی۔ بھائی   7 ۔7 ۔7 ۔7 ۔7 ۔7 ۔3 ۔3 ۔3 ۔6۔ 6  بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ امير مائى(مرحومہ) کا کل ترکہ 63 حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔مرحومہ کی زندگی میں فوت ہونے والی بیٹی مرحومہ کے ترکہ سے شرعاً محروم رہے گی؛کیونکہ وہ مورث سے پہلے وفات پاگئی ہے۔ لما في المبسوط للسرخسي:  لِأَنَّ بَقَاءَ الْوَارِثِ بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ شَرْطٌ لِوِرَاثَتِهِ عَنْهُ فَإِنَّ الْوِرَاثَةَ خِلَافَةٌ، وَالْحَيُّ يَخْلُفُ الْمَيِّتَ، فَأَمَّا الْمَيِّتُ فَلَا يَخْلُفُ الْمَيِّتَ  (کتاب الفرائض، 11 / 43 ط: دارالمعرفة)  ولما في رد المحتار:  (قَوْلُهُ إنَّمَا يَكُونُ بَعْدَ الْمَوْتِ) لِأَنَّ كَوْنَهُمْ وَرَثَةً لَا يَتَحَقَّقُ إلَّا بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ  (الرد مع الدر، کتاب الفرائض، 6 / 687 ط: دارالفكر)  فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض