فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

نابالغ بیٹی کا نکاح، غیر کی منکوحہ سے نکاح اور طلاق کی شرعی حیثیت

فتویٰ نمبر 307202610229 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

نابالغ بیٹی کا نکاح، غیر کی منکوحہ سے نکاح اور طلاق کی شرعی حیثیت

سوال
میری بیٹی مسماۃ کا نکاح میں نے بچپن میں اپنے بھتیجے سے کیا تھا، جب لڑکی بڑی ہوئی ہوتو وہ وہاں آباد نہیں ہونا چاہتی تھی۔۔۔ پھر 1-10-2021 کو لڑکی نے ازخود والدین کی رضامندی کے بغیر کسی غیر برادری والے (مسمی محمدکاشف)سے نکاح کرلیا۔۔۔ جب طارق(شوہر) کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے 17-10-2021 کو بذریعہ فون کال ایک ایک کرکے تین طلاقیں دے دیں، اور وہ اس بات کو مانتا بھی ہے کہ اس نے تین طلاقیں دے دی ہیں۔ ۱۔۔۔ آیا لڑکی کے نکاح ثانی کا حکم کیا ہے؟ ۲۔۔۔طارق کے طلاق دینے کی کیا حیثیت ہے؟
جواب
۱۔۔۔ واضح رہے کہ اگر نابالغ کا نکاح اس کاوالد یا دادا کرادے تو نکاح لازم ہوجاتا ، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں والدکا اپنی نابالغ بچی مسماۃ رضیہ کا طارق سے کیا ہوا نکاح منعقد ہوچکا تھا۔ لما في فتح القدير للكمال ابن الهمامؒ:  (فإن) (زوجهما الأب والجد) يعني الصغير والصغيرة (فلا خيار لهما بعد بلوغهما)  (كتاب النكاح، باب الأولياء، 3/ 277 ط: دارالفکر)  لہٰذا رضیہ کا طارق سے طلاق لئے بغیر آگے محمدکاشف سے نکاح کرنا ہی باطل ہے، اس کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں؛ کیونکہ غیر کی منکوحہ سے نکاح کرنا حرام ہے۔  فتاوى قاضيخان:  ولا يجوز نكاح منكوحة الغير و معتدة الغير عند الكل  (الخانية علیٰ الهندية، كتاب النكاح، 1/ 180 ط: رشيدية)  لما فی الفتاوى الهندية:  لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة.  (کتاب النکاح، 1 / 280 ط:دارالفکر)  ۲۔۔۔ چونکہ مسماۃ رضیہ کی ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی اور نہ ہی طارق کے ساتھ خلوت ہوئی ہےتو اب مسمی طارق(شوہر) کے الگ الگ تین طلاقیں دینے کی وجہ سے ایک طلاق واقع ہوکر نکاح ختم ہوچکا ہے، لہٰذا مسماۃ رضیہ عدت گزارے بغیر کسی اور سے نکاح کرنا چاہے یا اسی طارق سے نکاح کرنا چاہے توکرسکتی ہے۔البتہ طارق سے نکاح کرنے کی صورت میں مستقبل میں دو طلاقیں دینے کا اختیار ہوگا۔ لما فی الدر المختار:  (قال لزوجته غير المدخول بها أنت طالق ۔۔۔ (وقعن) ۔۔۔ (وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالاولى) لا إلى عدة  (الدر مع الرد، کتاب الطلاق، باب طلاق غير المدخول بها، 3/ 286 ط: سعيد)  فقط واللہ اعلم
حوالہ: نکاح