فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

بھائیوں کے وراثتی حصہ کو بہنوں کی اجازت کے بغیر فروخت کرنے کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 307202610228 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

بھائیوں کے وراثتی حصہ کو بہنوں کی اجازت کے بغیر فروخت کرنے کا شرعی حکم

سوال
محمد خالد فوت ہوگیا ہے، ورثاء میں ایک بیوہ، دو بیٹیاں ، ایک بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ والدین پہلے وفات پاگئے ہیں۔ مرحوم کے ترکہ میں ایک چھ مرلے کا پلاٹ ہے، جو اس کی بیوی نے کسی کو بتائے بغیر 30،00،000 روپے ميں فروخت کر دیا ہے۔ آیا اس میں بھائی بہنوں کا حصہ ہوگا یا نہیں؟ نیز بیوہ بہن بھائیوں کو حصہ دینے سے انکاری ہے۔
جواب
اس میں مرحومہ کے بہن بھائیوں کا حصہ بھی ہے بيوہ کا بہن بھائیوں کو شرعی حصہ نہ دے کر محروم کرنے پر بڑی سخت وعید آئی ہے،حتی کہ جناب نبی کریم ﷺ نے فرمایاکہ ایسے شخص کو قیامت کے دن اس کے جنت کے حصہ سے محروم کردیا جائے گا۔ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» (مشكاة المصابيح، کتاب الفرائض)  لہٰذا بیوہ کو چاہیے کہ وہ بہن بھائیوں کا شرعی حصہ انہیں ادا کرے ورنہ آخرت میں سخت پکڑ ہوگی۔ فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض