فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

صوتی اور تحریری پیغام کے ذریعے تین طلاق واقع ہونے کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 307202610225 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

صوتی اور تحریری پیغام کے ذریعے تین طلاق واقع ہونے کا شرعی حکم

سوال
مجھے میرے شوہر نے موبائل پر پہلے صوتی پیغام بھیجا جس میں کہا : "طلاق ہے تمہیں۔۔۔ طلاق ہے تمہیں" پھر تحریری پیغام بھیجا:"طلاق طلاق طلاق اب سو دفعہ ہوگیا ہے، میری نیت ہے۔۔۔ الخ آیا اب کتنی طلاقیں واقع ہوچکی ہیں؟ رجوع کی کیا صورت ہے؟
جواب
بر تقدیر صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں مصباح بی بی پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب نہ رجوع جائزہے، نہ عقدِ جدید کافی ہے اور نہ ہی دوبارہ نعمان علی کے ساتھ آباد ہوسکتی ہے۔ لقوله تعالى: فان طلقها فلا تحل له من بعد۔۔۔ (البقرة:230)۔  ولما في الهداية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها  (كتاب الطلاق، فصل فيما تحل به المطلقة، 2/ 257 ط: دار احياء التراث العربي)  ولما في الفتاوى الهندية  وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع  (كتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق، الفصل السادس في الطلاق بالكتابة، 1/ 378 ط: دارالفكر)  ولما في رد المحتار:  ولا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه؛ لما في البحر لو قال: طالق فقيل له: من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته. اهـ ۔۔۔ لو قال: امرأة طالق أو قال طلقت امرأة ثلاثا وقال لم أعن امرأتي يصدق اهـ ويفهم منه أنه لو لم يقل ذلك تطلق امرأته، لأن العادة أن من له امرأة إنما يحلف بطلاقها لا بطلاق غيرها۔۔۔(کتاب الطلاق، باب صریح الطلاق، 3/ 248 ط: دارالفکر)  فقط واللہ اعلم
حوالہ: طلاق