فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

مرحومہ کے زیور پر گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ کا شرعی حکم اور ادائیگی کا طریقہ

فتویٰ نمبر 307202610221 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

مرحومہ کے زیور پر گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ کا شرعی حکم اور ادائیگی کا طریقہ

سوال
ہماری والدہ ماجدہ کا انتقال ہوچکا ہے۔ انھوں نے کچھ زیور وزن پونے پانچ تولہ ۲۰۰۳؁ میں بنوائی تھیں۔ ۱۔ کیا اس زیور پر زکوۃ ادا کرنا فرض ہے؟ ۲۔ اگر اس پر زکوۃ ادا کرنا فرض ہے تو کس حساب سے ۲۰۰۳؁ سے ادا کی جائے گی؟ اس کا طریقہ کیا ہوگا؟
جواب
واضح رہے کہ عموماً ہزار، پانچ سو ، سو روپے ہر انسان کے پاس ہوتے ہیں۔ اس لئے خالدہ مرحومہ پر زکوۃ فرض تھی؛کیونکہ سونے کے ساتھ کچھ نقدی بھی ہو تو اس میں چاندی کا نصاب دیکھا جاتا ہے،سونے کے نصاب کا اعتبار نہ ہوگا؛کیونکہ انفع للفقراء کی یہی صورت ہے۔  باقی زکوۃ کا وجوب زیور کی آج کی مالیت سے ہوگا۔ آج اس کی قیمت لگوا لی جائے۔ اگر مرحومہ نے کوئی نقد رقم چھوڑی ہے تو اسے بھی ساتھ شامل کرلیا جائے۔۔۔ مجموعہ مالیت کا ۴۰/۱ حصہ الگ کرلیا جائے، یہ ۲۰۰۳؁ء کی زکوۃ بن گئی۔ پھر باقی رقم سے دوبارا ۴۰/۱ حصہ الگ کرلیا جائے تو یہ ۲۰۰۴؁ء کی زکوۃ بن جائے گی۔۔۔ اس طرح۴۰/۱ حصہ الگ کرتے رہیں ۔ یہ ادائیگیِ زکوۃ کا حکم تب ہے جبکہ تمام ورثاء اس پر راضی ہوں۔ اگر وہ راضی نہ ہوں تو ان کے ذمہ والدہ مرحومہ کی زکوۃ ادا كرنا لازم نہیں؛کیونکہ انھوں نے اس کی کوئی وصیت نہیں کی تھی۔ لما في تحفة الفقهاء: وإن لم يوص وتبرع الورثة جاز وإن لم يتبرعوا لا يلزمهم الأداء بل يسقط في حكم الدنيا (كتاب الصوم، قبيل مسئلة النذر، 1/ 360 ط:دار الكتب العلمية) فقط واللہ اعلم
حوالہ: زکات