فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

پٹی پر مسح کرنے والے امام کی اقتداء کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 307202610220 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

پٹی پر مسح کرنے والے امام کی اقتداء کا شرعی حکم

سوال
مسجد کے امام کا ہاتھ ٹوٹ گیا ہے اور ہاتھ پر پٹی بندھی ہوئی ہے ۔اب اس مٹی پر مسح کرکے تندرست لوگوں کو نماز پڑھا سکتا ہے؟ جبکہ کبھی کبھار اس کے پیچھے حفاظ کرام بھی موجود ہوتے ہیں۔
جواب
واضح رہے کہ عذر کی وجہ سے پٹی پر مسح کرنے والا تندرست وضوء کرنے والوں کا امام بن سکتا ہے۔ لما في المبسوط للسرخسيؒ:  وبالإجماع إمامة الماسح للغاسل جائزة  (كتاب الصلاة، باب صلاة المريض، 1/ 214 ط:دارالمعرفة)  ولما في مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح  صح اقتداء "غاسل بماسح" على خف أو جبيرة أو خرقة قرحة لا يسيل منه شيء  (المراقي مع الطحطاوي، كتاب الصلاة، باب الإمامة، ص: 295، ط:دارالكتب العلمية)  فقط واللہ اعلم
حوالہ: نماز