فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

تین طلاقوں کی شرعی حیثیت

فتویٰ نمبر 307202610212 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

تین طلاقوں کی شرعی حیثیت

سوال
میرے شوہرکچھ نفسیاتی مریض ہیں، اس سے کسی بات پر جھگڑا ہوا تو اس نے 21-11-2019 میں ایک طلاق کاغذ پر لکھ کر اس کی تصویر بنا کر واٹس ایپ کی، پھر رجوع ہوگیا، پھر دوبارہ جھگڑا ہوا تو 09-02-2022 کو دوبارہ کاغذ پر طلاق لکھ کر بھیجی۔پھر رجوع ہوگیا، پھر دوبارہ جھگڑا ہوا تو اب 01-08-2022 کو کاغذ پر لکھا "میں محمد نعیم شوہر ثمینہ نورین اس کو تیسری طلاق دیتا ہوں" اس کی تصویر بنا کر واٹس ایپ کی۔ آیا اب رجوع ہوسکتا ہے؟کتنی طلاقیں واقع ہوچکی ہیں؟
جواب
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب وہ شخص مذکور  کے گھر آباد نہیں ہوسکتی، نہ رجوع كی اجازت ہے اور نہ ہی عقدِ جدید کافی ہے۔ لقوله تعالى: فان طلقها فلا تحل له من بعد۔۔۔ (البقرة:230)  لما في الهداية:  وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها "  (كتاب الطلاق، 2/258، 257 ط: دار احياء التراث العربي)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: طلاق