نابالغ بچوں اور محدود وسائل والی عورت پر زکوٰۃ کا حکم
سوال
ایک عورت (جمیلہ )کے پاس ڈیڑھ تولہ سونا ہے۔ پیسے کچھ بھی نہیں ہیں، اور چاندی بھی نہیں ہے۔آیا اس پر زکوۃ ادا کرنا لازم ہے؟
۲۔ نیز اس کا شوہر بالکل نہیں کماتا ، اور اس کے تین بچے (دو بیٹیاں اور ایک بیٹا) ہیں، بیٹا ابھی نابالغ ہے۔ اور کوئی کمانے والا نہیں ہے۔ گھر کا گزارہ بڑی تنگی سے ہوتا ہے۔
جواب
واضح رہے کہ اگر جمیلہ کے پاس سونے کے ساتھ سو، دو سو روپے بھی ہیں تو ایسی صورت میں اس پر زکوۃ ادا کرنا لازم ہوگی؛کیونکہ ایسی صورت میں ڈیڑھ تولہ سونے کی قیمتِ فروخت لگاکر سو، دو سو روپے کو جمع کرنے کے بعد قیمت چاندی کے نصاب کے برابر بن جاتی ہے ، لہٰذا اس پر زکوۃ ادا کرنا لازم ہوگی۔ اور اس کیلئے زکوۃ لینا جائز نہ ہوگا۔
اور اگر صرف ڈیڑھ تولہ سونا ہے، اس کے ساتھ چاندی، مالِ تجارت، نقدی وغیرہ بالکل نہیں ہے تو اس پر زکوۃ ادا کرنا لازم نہیں ۔
بدائع الصنائع:
فأما إذا كان له الصنفان جميعا فإن لم يكن كل واحد منهما نصابا بأن كان له عشرة مثاقيل ومائة درهم فإنه يضم أحدهما إلى الآخر في حق تكميل النصاب عندنا
(كتاب الزكاة، فصل مقدار الواجب في زكاة الذهب، 2/ 19 ط:دارالكتب العلمية)
اس دوسری صورت میں اگراس کے ضرورت سے زائد معمولی سا سامان ہے(جیساکہ عام طور پر ہوتا ہے) تو یہ دوسروں سے زکوۃ نہیں لے سکتی۔
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
حوالہ: زکات