فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

مرحوم کی تجارتی کتابوں پر زکوٰۃ کا حکم

فتویٰ نمبر 307202610207 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

مرحوم کی تجارتی کتابوں پر زکوٰۃ کا حکم

سوال
میرے والد صاحب نے بیچنے کیلئے کتابیں چھپوائیں، پھر اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ اب تقریباً 12 لاکھ کی کتابیں موجود ہیں، جن میں سے وقتاً فوقتاً فروخت ہوتی رہتی ہیں۔آیا ان پر زکوۃ لازم ہوگی؟
جواب
متوفی کی وفات کے بعد یہ کتابیں ورثاء کی ہیں ، لہٰذا  اگر ہر وارث باقی اثاثہ اور کتابوں سے وراثتی حصہ کو ملا کر صاحب نصاب بنتا ہے اور اس نے یہ کتابیں یہاں فروخت کی نیت سے رکھوائی ہوئی ہیں تو چونکہ یہ  کتابیں  مالِ تجارت ہیں،لہٰذا ان کی ہر سال زکوٰۃ صاحب نصاب وارث پر لازم ہوگی ۔ المبسوط للسرخسيؒ:  أن الزكاة تجب في عروض التجارة إذا حال الحول عندنا (كتاب الزكاة، باب زكاة المال، 2/ 190 ط:دارالمعرفة)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: زکات