مرحوم کی تجارتی کتابوں پر زکوٰۃ کا حکم
سوال
میرے والد صاحب نے بیچنے کیلئے کتابیں چھپوائیں، پھر اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ اب تقریباً 12 لاکھ کی کتابیں موجود ہیں، جن میں سے وقتاً فوقتاً فروخت ہوتی رہتی ہیں۔آیا ان پر زکوۃ لازم ہوگی؟
جواب
متوفی کی وفات کے بعد یہ کتابیں ورثاء کی ہیں ، لہٰذا اگر ہر وارث باقی اثاثہ اور کتابوں سے وراثتی حصہ کو ملا کر صاحب نصاب بنتا ہے اور اس نے یہ کتابیں یہاں فروخت کی نیت سے رکھوائی ہوئی ہیں تو چونکہ یہ کتابیں مالِ تجارت ہیں،لہٰذا ان کی ہر سال زکوٰۃ صاحب نصاب وارث پر لازم ہوگی ۔
المبسوط للسرخسيؒ:
أن الزكاة تجب في عروض التجارة إذا حال الحول عندنا
(كتاب الزكاة، باب زكاة المال، 2/ 190 ط:دارالمعرفة)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
حوالہ: زکات