فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

ترکہ کی تقسیم سے قبل وارث کو دیا گیا سامان کس کا شمار ہوگا؟

فتویٰ نمبر 304202610202 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

ترکہ کی تقسیم سے قبل وارث کو دیا گیا سامان کس کا شمار ہوگا؟

سوال
میرے نانا کا انتقال ہوا، ورثاء میں ایک بیوہ، تین بیٹےاور دو بیٹیاں تھیں۔۔۔ نانا کے ترکہ میں نقدی تقریباً 57،000روپے اور ساڑهے تين مرلے رہائشی مکان ہے، منجملہ ترکہ میں ایک پستول بھی تھا، جس کو نانی نے مجھے(مسمی حماد) کو ماموں سے پوچھ کر دیا تھا، اور میں نے وہ لے لیا تھا۔۔۔ اب بعض ورثاء کہتے ہیں کہ یہ وراثت میں داخل ہے۔۔۔ آیا یہ پستول شرعاً کس کا ہے؟جبکہ نانی وفات پا گئی ہیں۔۔۔ اور نانی کے مجھے پستول دینے پر ماموں اور میرا بھائی گواہ ہیں۔ جزاكم الله خيراً
جواب
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں ترکہ کی تقسیم سے پہلے نانی کا پستول کسی کو دینا شرعاً درست نہ تھا، تاہم نانی نے دے دیا اور اب وہ وفات پاچکی ہیں تو یہ پستول نانی کے حصہ سے شمار ہوکر سائل کی ملکیت ہے؛ کیونکہ ھبہ (گفٹ) مکمل ہوچکا ہے۔لہٰذا ورثاء کا سائل سے پستول کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں۔ الفتاوى الهندية:  ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة  (كتاب الهبة، الباب الثاني فيما يجوز من الهبة، 4/ 377 ط: دارالكتب العلمية)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض