فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

وراثت میں بیٹوں اور بیٹیوں کے شرعی حصے اور وصیت کی شرعی حیثیت

فتویٰ نمبر 304202610197 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

وراثت میں بیٹوں اور بیٹیوں کے شرعی حصے اور وصیت کی شرعی حیثیت

سوال
ایک عورت کا سات سال قبل انتقال ہوا، ورثاء میں شوہر، پانچ بیٹے اور پانچ بیٹیاں زندہ ہیں۔ والدین کا انتقال مرحومہ کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا۔مرحومہ نےوراثت میں دوکمرشل پلاٹ چھوڑےجن کی مالیت تقریباً ایک کروڑبیس لاکھ روپے(120،00،000)ہےاورایک پلاٹ تین مرلہ کا رہائشی پلاٹ چھوڑا، جس کی مالیت تقریباً پانچ لاکھ روپے(5،00،000)ہے۔ مرحومہ نے زبانی وصیت کی تھی کہ میرے مرنے کے بعد دونوں پلاٹ صرف میرے بیٹوں میں تقسیم کیے جائیں ، بیٹیوں کو نہ دئیے جائیں ۔ کیا یہ وصیت نافذ ہوگی ؟نیز مذکورہ بالا ورثاء کا کتنا کتنا حصہ بنتا ہے ؟
جواب
مسئلہ4/60 مضروب15 ترکہ 00،000، 125 روپے میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ شوہر۔ بیٹا۔ بیٹا۔ بیٹا۔ بیٹا۔ بیٹا ۔بیٹی ۔بیٹی ۔بیٹی۔ بیٹی۔ بیٹی  1۔ 3 15 ۔6 ۔6 ۔6 ۔6 ۔6 ۔3 ۔3 ۔3 ۔3۔ 3 3125000 ۔1250000 ۔1250000 ۔1250000 ۔1250000۔ 1250000 ۔625000 ۔6۔25000 6۔25000 6۔25000۔ 625000 بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ صغریٰ بیگم(مرحومہ) کا  کل ترکہ 60 حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔  واضح رہے کہ وارث کے حق میں شرعاً وصیت غیر معتبر ہوتی ہے، لہٰذا مرحومہ کی اپنے بیٹوں کے حق میں کی گئی وصیت پر عمل کرنا شرعاًلازم نہیں ہے۔  لما في تحفة الفقهاء: ومنها أن يكون الموصى له أجنبيا حتى أن الوصية للوارث لا تجوز إلا بإجازة الورثة (كتاب الوصايا، 3/ 207 ط: دار الكتب العلمية)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: وصیت