فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

غصے میں دکی گئی تین طلاقوں کی شرعی حیثیت

فتویٰ نمبر 304202610189 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

غصے میں دکی گئی تین طلاقوں کی شرعی حیثیت

سوال
میرا اپنے شوہر (ظفراقبال)سے جھگڑا چل رہا تھا کہ شوہر نے کہا: "طاہرہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طاہرہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طاہرہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" اس موقع پر میرا بھائی (عارف)، بہن (سونیرہ)، سوکن(نورین)بھی موجود تھے۔اب بھائی کہتے ہیں کہ یہ طلاق نہیں ہوئی؛کیونکہ غصہ میں طلاق دی تھی۔آیا طلاق واقع ہوگئی ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ غصے میں طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، چنانچہ عمدۃ القاری میں ہے: أما حكم الطلاق في الغضب فإنه يقع (كتاب التفسير، باب الطلاق في الإغلاق والكره ۔۔۔ الخ، 20/ 251 ط: دار إحياء التراث العربي) فقط واللہ اعلم
حوالہ: طلاق