فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

آن لائن ٹریڈز گیم میں اوپر نیچے کے اندازے پر پیسے لگانے کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 304202610186 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

آن لائن ٹریڈز گیم میں اوپر نیچے کے اندازے پر پیسے لگانے کا شرعی حکم

سوال
ایک گیم ہے، جس کا نام ٹریڈز ہے، وہ اس طرح ہوتی ہے کہ جیسا کہ دل کی ای سی جی ہوتی ہے، ایک لائن نظرآرہی ہوتی ہے، جو کبھی اوپر جاتی ہے، کبھی نیچے تو اس میں کھیلنے کا طریقہ یہ ہے کہ کھیلتے وقت کچھ پیسے لگاتے ہیں۔ پھر یہ بتانا ہوتا ہے کہ لائن اوپر جائے گی یا نیچے؟ اگر کہا اوپر اور واقعی لائن اوپر چلی گئی تو دوسرا فریق آپ کو آپ کے لگائے گئے پیسے کے بقدر اضافی رقم دے گا اور اگر نیچے چلی گئی تو آپ کے پیسے ضائع ہوجائیں گے۔ آیا ایسا کھیل کھیلنا شرعاً کیسا ہے؟
جواب
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں مذکورہ گیم کھیلنا اور اس سے پیسے کمانا قمار(جوا) ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز و حرام ہے۔ وقال اللّٰہ تعالیٰ: {یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ} [المائدۃ: ۹۰]  عن عبد اللّٰہ بن عمر رضي اللّٰہ عنہما قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: إن اللّٰہ حرّم علی أمتي الخمر والمیسر۔ (المسند للإمام أحمد بن حنبل ۲؍۳۵۱ رقم: ۶۵۱۱ دار إحیاء التراث العربي بیروت)  الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 403)  فيه من تعليق التمليك على الخطر، ولهذا لا يجوز فيما عدا الأربعة كالبغل وإن كان الجعل مشروطا من أحد الجانبين اهـ فتأمل.  (قوله من الجانبين) بأن يقول إن سبق فرسك فلك علي كذا، وإن سبق فرسي فلي عليك كذا زيلعي وكذا إن قال إن سبق إبلك أو سهمك إلخ تتارخانية (قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص،  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: ایمان و عقائد