فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

ایک ساتھ دی جانے والی تین طلاقوں کی شرعی حیثیت اور رجوع کی ممانعت

فتویٰ نمبر 303202610175 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

ایک ساتھ دی جانے والی تین طلاقوں کی شرعی حیثیت اور رجوع کی ممانعت

سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو کہا کہ "میں اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر ایک طلاق دیتاہوں" بیوی پھر بھی جھگڑتی رہی، اس نے بیوی کو کہا کہ میں غصے میں ہوں، تم چلی جاؤ، کہیں کوئی نقصان نہ ہو۔بیوی نے اصرار کیا کہ مجھے اور طلاقیں دو پھر جاؤں گی۔ شوہر نے کہا:"دوسری اور تیسری بھی دے دی" پھر وہ اپنے بھائی کے پاس چلی گئی۔اس کے بارے میں شرعی حیثیت کو واضح کریں کہ کیا تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں یا ایک؟ کیا رجوع کرسکتے ہیں؟
جواب
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب نہ رجوع جائز ہے اور نہ ہی دوبارہ وہ اس شوہر کے ساتھ آباد ہوسکتی ہےاور نہ ہی عقدِ جدید کافی ہے۔ لقوله تعالى: فان طلقها فلا تحل له من بعد۔۔۔ (البقرة:230)۔ ولما في الهداية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها (كتاب الطلاق، 2/258، 257 ط: دار احياء التراث العربي) لما في الفتاوى الهندية: ولو قالت: مرا طلاق كن مرا طلاق كن فقال كردم كردم كردم تطلق ثلاثا وهو الأصح (كتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق، الفصل السابع في الطلاق بالألفاظ الفارسية، 1/ 384 ط:رشيدية) قرآن کریم، احادیث ِ صحیحہ سے اور جمہورصحابہ و تابعین وائمہ اربعہ رحمھم اللہ تعالی کے نزدیک بیک وقت دی جانے والی تین طلاقیں شرعاً تین ہی شمار ہوتی ہیں۔لقوله تعالى: فان طلقها فلا تحل له من بعد۔۔۔(البقرة:230)۔ قال القاضي محمد ثناء اللهؒ تحت الاية:ومن يتق الله يجعل له مخرجا(الطلاق:2): أجمعوا على انه من قال لامراته أنت طالق ثلاثا يقع ثلاثا بالإجماع (التفسير المظهري، 1/300 ط: رشيدية) فقط واللہ اعلم
حوالہ: طلاق