"فارغ ہے" کہنے سے کتنی طلاق واقع ہوتی ہے؟
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بیوی گھر سے باہر کہیں گئی ہوئی تھی، شوہر کالیں کرتا رہا، لیکن کال نہ اٹھائی، جب گھر آئی اور کال پر رابطہ ہوا تو :
بیوی کا بیان:شوہر نے کہاتھا : " تو میری طرف سے آج بھی فارغ ہے اور کل بھی فارغ ہے، میں نے آپ کو طلاق دی، آپ کا میرا آج سے کوئی تعلق نہیں ، اپنے ابوکو کہیں کہ مجھ سے رابطہ کریں"۔(پنجابی زبان میں کہا)
شوہرکا بیان:میں نے کہا تھا:" میری طرف سے آج کے بعد تو فارغ ہے"میرا مقصد ڈرانا تھا۔
نوٹ: اس واقعہ سے قبل کوئی طلاق نہیں دی، نہ زبانی اور نہ ہی تحریری۔
جواب
برتقدیرِصحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں بیوی کے بیان کے مطابق دو طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، ایک "فارغ ہے"کے جملہ سے طلاق بائن اور دوسری "میں نے آپ کو طلاق دی " سےطلاق رجعی ۔جبکہ شوہر کے بیان کے مطابق صرف ایک طلاق بائن واقع ہوئی ہے۔ بہر صورت نکاح جدیدشرعی گواہان کی موجودگی میں نیا مہرطے کرکے دونوں آباد ہوسکتے ہیں ۔ نکاح کے بعد اگر شوہر نے ایک طلاق بھی دے دی تو بیوی کیلئے اس کے ساتھ آباد ہونا جائز نہ ہوگا۔
لما في الفتاوى الهندية:
(وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية۔۔۔ ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم
(كتاب الطلاق، 1/ 374 ط:دارالفكر)
ولما في رد المحتار:
(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة
(الدر مع الرد، کتاب الطلاق، 3/ 306 ط: دارالفكر)
ولما في الفتاوى الهندية:
إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها
(کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة، فصل فيما تحل به المطلقة، 1/ 472 ط: دارالفكر)
ولما فيه أيضا:
والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك
(كتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق، الفصل الأول في الطلاق الصريح، 1/ 354 ط: دارالفكر)
فقط واللہ اعلم
حوالہ: طلاق