بیٹیوں کے ساتھ شوہر اور بہن بھائیوں میں وراثت کی تقسیم
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بیوی(ارشاد بی بی) کا انتقال ہوچکا ہے، ورثاءمیں شوہر(اللہ وسایا)، ۴ بیٹیاں(شہناز، حسینہ، عاصمہ، رابعہ)، ۳ بھائی(محمد ڈھولا، اللہ دتہ، اللہ رکھا) اور ۲ بہنیں(بیگم مائی، منشادمائی)ہیں۔ان دو بہنوں کے علاوہ ایک بہن(ممتازمائی) پہلے وفات پاگئی ہے۔ہر ایک کا شرعی حصہ بتادیں۔
جواب
مسئلہ12/96 مضروب8 ارشادبی بی(متوفیہ)
میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
شوہر بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بھائی بھائی بھائی بہن بہن
اللہ وسایا شہناز حسینہ عاصمہ رابعہ محمد ڈھولا اللہ دتہ اللہ رکھا بیگم مائی منشادمائی
3 -8- 1
24- 16- 16- 16- 16- 2-2- 2- 1- 1
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ازادائے قرض و وصیتِ جائزہ ارشادبی بی(مرحومہ) کا کل ترکہ 96 حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔ممتاز مائی چونکہ مرحومہ سے پہلے وفات پاگئی تھی، اس لئے وہ مرحومہ کے ترکہ سے شرعاً محروم رہے گا۔
لما في المبسوط للسرخسي:
لِأَنَّ بَقَاءَ الْوَارِثِ بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ شَرْطٌ لِوِرَاثَتِهِ عَنْهُ فَإِنَّ الْوِرَاثَةَ خِلَافَةٌ، وَالْحَيُّ يَخْلُفُ الْمَيِّتَ، فَأَمَّا الْمَيِّتُ فَلَا يَخْلُفُ الْمَيِّتَ
(کتاب الفرائض، 11 / 43 ط: دارالمعرفة)
وٍلما فی السراجي:
والعصبة: كل من يأخذ ما أبقته أصحاب الفرائض
(السراجي، ترتيب تقسيم التركة، ص16 ط:بشرىٰ)
فقط واللہ اعلم
حوالہ: ایمان و عقائد