فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

بیٹوں اور بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم اور مورث کی زندگی میں فوت ہونے والی بیٹی کا حکم

فتویٰ نمبر 303202610164 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

بیٹوں اور بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم اور مورث کی زندگی میں فوت ہونے والی بیٹی کا حکم

سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ فضل محمد کا انتقال ہوا۔ ورثاء میں 5 بیٹے(منظور، اسلم، اشرف، اکرم، نور محمد) اور 4 بیٹیاں(منظورہ، آسیہ، ثریا ، سلمہ) ہیں، جن میں سے سلمہ کا انتقال مرحو م کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا۔ سلمہ کے ورثاء میں شوہراور 1 بیٹا ہے۔ فضل محمد کی بیوی اور والدین کا انتقال مرحوم کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا۔ ہر ایک کاشرعی حصہ بتا دیں۔
جواب
مسئلہ13 فضل محمد (متوفی) میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی منظور اسلم اشرف اکرم نور محمد منظورہ آسیہ ثریا سلمہ 2، 2، 2ً، 2، 2، 1، 1، 1، محروم برتقدیر صحت واقعہ صورت مسئولہ میں بعد از ادائے قرض و وصیتِ جائزہ فضل محمد کاکل ترکہ 13حصے ہو کر حسبِ تفصیل بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔ سلمہ چونکہ مرحوم کی زندگی میں ہی انتقال کر گئی تھی، لہٰذا وہ اور اس کے ورثاء مرحوم کے ترکہ سے شرعاً محروم ہوں گے۔ لما في المبسوط للسرخسي: لِأَنَّ بَقَاءَ الْوَارِثِ بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ شَرْطٌ لِوِرَاثَتِهِ عَنْهُ فَإِنَّ الْوِرَاثَةَ خِلَافَةٌ، وَالْحَيُّ يَخْلُفُ الْمَيِّتَ، فَأَمَّا الْمَيِّتُ فَلَا يَخْلُفُ الْمَيِّتَ (کتاب الفرائض، 11 / 43 ط: دارالمعرفة) ولما في رد المحتار: (قَوْلُهُ إنَّمَا يَكُونُ بَعْدَ الْمَوْتِ) لِأَنَّ كَوْنَهُمْ وَرَثَةً لَا يَتَحَقَّقُ إلَّا بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ (الرد مع الدر، کتاب الفرائض، 6 / 687 ط: دارالفكر) فقط واللہ اعلم
حوالہ: ایمان و عقائد