بیٹوں اور بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم اور مورث کی زندگی میں فوت ہونے والی بیٹی کا حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ فضل محمد کا انتقال ہوا۔ ورثاء میں 5 بیٹے(منظور، اسلم، اشرف، اکرم، نور محمد) اور 4 بیٹیاں(منظورہ، آسیہ، ثریا ، سلمہ) ہیں، جن میں سے سلمہ کا انتقال مرحو م کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا۔ سلمہ کے ورثاء میں شوہراور 1 بیٹا ہے۔ فضل محمد کی بیوی اور والدین کا انتقال مرحوم کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا۔ ہر ایک کاشرعی حصہ بتا دیں۔
جواب
مسئلہ13 فضل محمد (متوفی)
میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی
منظور اسلم اشرف اکرم نور محمد منظورہ آسیہ ثریا سلمہ
2، 2، 2ً، 2، 2، 1، 1، 1، محروم
برتقدیر صحت واقعہ صورت مسئولہ میں بعد از ادائے قرض و وصیتِ جائزہ فضل محمد کاکل ترکہ 13حصے ہو کر حسبِ تفصیل بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔ سلمہ چونکہ مرحوم کی زندگی میں ہی انتقال کر گئی تھی، لہٰذا وہ اور اس کے ورثاء مرحوم کے ترکہ سے شرعاً محروم ہوں گے۔
لما في المبسوط للسرخسي:
لِأَنَّ بَقَاءَ الْوَارِثِ بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ شَرْطٌ لِوِرَاثَتِهِ عَنْهُ فَإِنَّ الْوِرَاثَةَ خِلَافَةٌ، وَالْحَيُّ يَخْلُفُ الْمَيِّتَ، فَأَمَّا الْمَيِّتُ فَلَا يَخْلُفُ الْمَيِّتَ
(کتاب الفرائض، 11 / 43 ط: دارالمعرفة)
ولما في رد المحتار:
(قَوْلُهُ إنَّمَا يَكُونُ بَعْدَ الْمَوْتِ) لِأَنَّ كَوْنَهُمْ وَرَثَةً لَا يَتَحَقَّقُ إلَّا بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ
(الرد مع الدر، کتاب الفرائض، 6 / 687 ط: دارالفكر)
فقط واللہ اعلم
حوالہ: ایمان و عقائد