فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

مسافتِ شرعی کی مقدار اور قرض دہندہ کے لا پتہ ہونے کی صورت میں ادائیگی کا حکم

فتویٰ نمبر 303202610161 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

مسافتِ شرعی کی مقدار اور قرض دہندہ کے لا پتہ ہونے کی صورت میں ادائیگی کا حکم

سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسائل کے بارے میں : ۱۔۔۔مسافت شرعی کی مقدار کلو میٹر کے اعتبار سے کتنی ہے؟ ۲۔۔۔اگر قرض خواہ فوت ہوجائے اور اس کے کنبہ کا علم نہ ہو کہ وہ کہاں ہیں تو اب کیا حکم ہے؟
جواب
الجواب  ۱۔۔۔ مسافتِ سفرِ کی مقدار ۴۸ میل شرعی ہے، جو کہ موجودہ ۵۴ میل انگریزی اور ۸۷ کلومیٹر بنتے ہیں(خیرالفتاویٰ، کتاب الصلاۃ، باب فی السفر، ۶۷۴/۲ ط:امدایہ)۔ ۲۔۔۔اولا مقدور بھر کوشش کرکے قرض خواہ کے ورثاء کو تلاش کیا جائے، اگر مل جائے تو قرض کی ادائیگی ان کو کردی جائے، لیکن اگر نہ ملے تو اس قرض خواہ کی نیت کرکے قرض کسی مستحق کو صدقہ کردیا جائے۔ فقط واللہ اعلم
حوالہ: شرکت