گانے کے اتار چڑھاؤ پر نعت خوانی کی حیثیت
سوال
گانا سن کر بغیر ساز کے نعت یا نظم کو گانے کی طرح یعنی اسی گانے کی اتار چڑھاؤ پر پڑھنا کہ جس آدمی نے وہ گانا سنا ہو تو وہ جیسے ہی اس کو سنتا ہے تو فوراً کہتا ہے کہ یہ فلاں گانے کو سن کر نعت یا نظم بنائی گئی ہے، اسی اتار چڑھاؤ اور اسی دھن میں پڑھی جارہی ہے، اگرچہ بغیر ساز کے پڑھی جارہی ہے۔۔۔عرف میں بھی اس کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔
اس نعت یا نظم کو سننے کا کیا حکم ہے؟ اور جو شاعر گانا سنکر نعت یا نظم پڑھ رہا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ اور کیا یہ فساق یعنی گانا گانے والوں کے ساتھ مشابہت ہے یا نہیں؟ بينوا فتؤجروا
جواب
گانے کی طرز پر نعت یا حمدوغیرہ پڑھنا درج ذیل وجوہ کی وجہ سے مکروہ و ناپسندیدہ ہے:
۱۔۔۔ یہ نعت وحمدوغیرہ کے تقدس کے خلاف ہے۔
۲۔۔۔ اس کے سننے سے لوگوں کے ذہن میں معصیت(گانے) کا خیال آئے گا، اور ایسے اسباب اختیار کرنا جو معصیت کی طرف لے جائیں ممنوع ہیں۔
۳۔۔۔ قرآن کریم (جو کہ نعت سے بالاتفاق افضل ہے)کو گانے کی طرز پر پڑھنا ممنوع ہے، تو نعت وغیرہ کو گانے کی طرز پر پڑھنا بدرجہ اولیٰ ممنوع ہوا۔
باقی نعت خواں کا نعت وغیرہ کی تیاری کیلئے گانے سننا حرام ہے؛ کیونکہ شریعتِ اسلامیہ نے گانا گانے اور سننے کو حرام قرار دیا ہے، حتیٰ کہ جنابِ نبی کریمﷺ کے سامنے اگر ساز بجائے جاتے تو آپﷺ کانوں میں انگلیاں ڈال لیتے تھے۔
عن نافع قال: " كنت مع ابن عمر، فسمع صوت زمارة راع، فقال هكذا، ووضع أصبعيه في أذنيه، وعدل عن الطريق، ثم قال: هل تسمع شيئا؟، فقلت: ما أسمع شيئا ثم قال: " رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فعل هذا "
(شرح مشكل الآثار، باب بيان مشكل ما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم مما يدل على حكم من دعي إلى وليمة۔۔۔، 13/ 248 ط: مؤسسة الرسالة)
نیز آپﷺ کا فرمان ہے کہ گانا دل میں نفاق کو ایسے پیدا کرتا ہے جیساکہ پانی کھیتی کو۔
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " الغناء ينبت النفاق في القلب، كما ينبت الماء الزرع "
(شعب الإيمان، حفظ اللسان، 7/ 108 ط: مكتبة الرشد، رياض)
لہٰذا نعت خواں حضرات کا گانے سننا بھی حرام ہے خصوصاً جبکہ یہ لوگ دیندار سمجھے جاتے ہیں، لوگ ان کو پیشوا سمجھتے ہیں۔۔۔ نیز نعت خوانی مستحب عمل کیلئے حرام کا ارتکاب کیونکر جائز ہوسکتا ہے۔۔۔ بلکہ ایسے نعت خواں آہستہ آہستہ گانے سننے سے بڑھ کر دیگر منکرات شنیعہ میں بھی مبتلا ہوجاتے ہیں۔
فقط واللہ اعلم
حوالہ: اَیمان و نذور