فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

مرحوم شوہر کی پنشن میں ورثاء کے شرعی حصص ہونگے یا نہیں؟

فتویٰ نمبر 225202610152 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

مرحوم شوہر کی پنشن میں ورثاء کے شرعی حصص ہونگے یا نہیں؟

سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے شوہر نعمان خان آرمی میں کلرک تھے۔ فوت ہوگئے ہیں۔ ورثاء میں ایک بیوہ(رخسار نعمان)، والد، والدہ ہیں۔ اب ان کی پنشن آئی ہے تو اس میں کس کا حصہ ہے؟
جواب
واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے مرحوم کو پنشن کے علاوہ بھی کئی مدات میں رقوم اور فنڈز شامل ہوتے ہیں، ان کے بارے میں اصولی ضابطہ یہ ہے کہ اگر مرحوم کی تنخواہ سے کٹوتی کرنے کی وجہ سےیا اس کی اعزازی چھٹیاں نہ کرنے کی وجہ سے رقم دی جارہی ہے تو اس میں تمام ورثاء حصصِ شرعی کے مطابق شریک ہوں گے۔ لیکن اگر وہ رقم حکومت و ادارہ کی طرف سے ھدیہ/تعاون /عطیہ ہے تو جس کے نام یہ رقم جاری ہوگی، وہی اس کا مالک ہوگا۔ کسی دوسرے وارث وغیرہ کا اس میں حصہ کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔ اسی طرح پنشن کے بارے میں بھی ضابطہ مقرر ہے اگر بیوہ موجود ہو تو بیوہ کو ملتی ہے بیوہ نہ ہو تو والدین کو اگر والدین نہ ہوں تو کنواری یا مطلقہ بیٹی کو ۔ لہٰذا جو بھی ضابطہ ہو اس کے مطابق عمل کیاجائے گا۔ پنشن ترکہ کی طرح تقسیم نہ ہوگی۔ لما في رد المحتار: لأن التركة في الاصطلاح ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية (الرد مع الدر، كتاب الفرائض، 6/ 759 ط: دارالفكر) ولما في الدر المختار: هي (أي: الهبة) شرعاً: تمليك العين مجاناً، أي: بلا عوض...و سببها: إرادة الخير للواهب... وحكماً: ثبوت الملك للوهوب له غير لازم. (كتاب الهبة: 8/570، ط: رشيدية) ولما في مجلة الأحكام العدلية: كما تكون أعيان المتوفى المتروكة مشتركة بين وارثيه على حسب حصصهم كذلك يكون الدين الذي له في ذمة آخر مشتركا بين وارثيه على حسب حصصهم (الكتاب العاشر في الشركات، الباب الأول في بيان شركة الملك، الفصل الثالث: في بيان الديون المشتركة، رقم المادة:2 9 0 1، ص: 210 ط:نور محمد كتب خانه) ولما في درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: فالتبرع هو إعطاء الشيء غير الواجب، إعطاؤه إحسانا من المعطي (المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، تحت رقم المادة:57:لا يتم التبرع إلا بقبض 1/ 57 ط:دارالجيل) مجدد ملت حکیم الامت حضرت تھانویؒ پنشن کے بارے میں فرماتے ہیں: فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض