فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

ای کامرس (Amazon) بزنس ماڈل میں شرکت کا شرعی حکم — نفع و نقصان اور شریکِ عامل کی تنخواہ کا مسئلہ

فتویٰ نمبر 223202610145 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

ای کامرس (Amazon) بزنس ماڈل میں شرکت کا شرعی حکم — نفع و نقصان اور شریکِ عامل کی تنخواہ کا مسئلہ

سوال
سائل کنگڈم آف ڈریم kingdom of dream ای کامرس e- commerce کے ذریعہ کاروبار کرنے کا ہنر رکھتا ہے۔ بزنس ماڈل ہم نے تقریباً ایک کروڑ سے ڈیڑھ کروڑ تک سرمایہ کاری کی اور آن لائن فرم و کمپنی بنائی کہ ہم ہول سیل پر چائنا وغیرہ کے کارخانوں سے مال بنواتے ہیں ، پھر ہم نے اپنا بیرون ملک ایک بندہ رکھا ہوا ہے جو مال تیار ہونے پر وہاں جا کر چیک کرتا ، معیار و مقدار کی تصدیق کرتا ہے، پھر ہم بقیہ پیمنٹ ادا کرکے مال اٹھوا کر ایمزون کے ویئر ہاؤس میں رکھوا دیتے ہیں ، پھر ہمارے مختلف ملازمین ہیں جو آن لائن ان کی تشہیر کرکے گاہک لاتے ہیں جو ہمارا مال خریدتے ہیں۔جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہوتے ہیں۔ ہم ان کوچیزہمارا کل عملہ تقریباً تیس (30) افراد کے لگ بھگ ہے اور ماہانہ ان کو تقریباً تیس سے پینتیس لاکھ روپے تنخواہ دی جاتی ہے، جن میں ہماری تنخواہ بھی شامل ہے۔ پھر جب نفع آتا ہے تو ہم تمام اخراجات بشمول تنخواہوں کے نکالنے کے بعد بقیہ نفع میں سے 60% فریق دوئم(شریک غیر عامل) کو اور 40% ہم خود(شریک عامل)لیتے ہیں۔ لیکن اب ہم اپنا سرمایہ نکال نہیں رہے بلکہ دوبارا انویسٹ کردیتے ہیں۔ ای کامرس کیا ہے؟ ای کامرس کا مطلب آن لائن خرید و فروخت کرنا ہے اور ہم ایمزون پر خرید و فروخت کرتے ہیں جوکہ ایک تجارتی عالمی منڈی ہے۔ منافع کے شرائط و ضوابط ۱۔ کمپنی پہلے سے طے شدہ منافع کی بنیاد پر اشتراک کرے گی۔ ۲۔ کمپنی سرمایہ کاروں کے سرمایہ کو شراکت داری کے طور پر استعمال کرے گی۔ ۳۔ کمپنی منافع کااشتراک اپنے کاروبار کے مطابق کرے گی۔ ۴۔ منافع کے حساب کتاب کا طریقہ ماہانہ کی بنیاد پر ہوگا۔ مندرجہ بالا تحریری وضاحت کا مقصد رائے لینا ہے کہ کیا ہمارا طریقہ ِ کاروبار اسلامی اصولوں پر مبنی ہے؟ نوٹ: ہم صرف ہول سیل کا کام کرتے ہیں، ڈراک شپنگ نہیں کرتے۔
جواب
صورتِ مسئولہ میں ای کامرس e-commerce کے ذریعہ کاروبار کرنا اور لوگوں کا اس میں پیسہ لگانا درج ذیل وجوہ سے شرعاً ناجائز ہے: ۱۔ مذکورہ کاروبار میں نقصان ہوجانے کی صورت میں فریق دوئم(شریک غیر عامل) %90 اور 10% فریق اول(عامل) برداشت کرے گا، جبکہ شرکت میں نقصان ہوجائے تو ہر فریق اپنے سرمایہ کے تناسب سے برداشت کرتا ہے، اگر اس کے خلاف شرط لگائی جائے تو معاملہ ناجائز ہوجاتا ہے۔ لما في المبسوط للسرخسيؒ: قال: (وإن جاء أحدهما بألف درهم، والآخر بألفي درهم فاشتركا على أن الربح والوضيعة نصفان: فهذه شركة فاسدة)، ومراده أن شرط الوضيعة هلاك جزء من المال، فكأن صاحب الألفين شرط ضمان شيء مما يهلك من ماله على صاحبه، وشرط الضمان على الألفين فاسد، ولكن لا يبطل بهذا أصل العقد؛ لأن جواز الشركة باعتبار الوكالة، والوكالة لا تبطل بالشروط الفاسدة، وإنما تفسد الشروط وتبقى الوكالة، فكذا هذا. فإن عملا على هذا فوضعا؛ فالوضيعة على قدر رءوس أموالهما، لأن الشرط بخلافه كان باطلا، وإن ربحا فالربح على ما اشترطا؛ لأن أصل العقد كان صحيحا، واستحقاق الربح بالشرط في العقد، فكان بينهما على ما اشترطا (كتاب الشركة، استحقاق الربح في طريق الشركة، 11/ 158 ط:دارالمعرفة) ۲۔ سائل (شریک عامل)کیلئے تنخواہ مقرر کی گئی ہے، جبکہ شریک کیلئے تنخواہ مقرر کرنا جائز نہیں ہے۔ لما في تبيين الحقائق: من حمل طعاما مشتركا بينه وبين غيره لا يستحق الأجر؛ لأنه لا يعمل شيئا لشريكه إلا ويقع بعضه لنفسه فلا يستحق الأجر (التبيين مع حاشية الشلبي، كتاب الإجارة، 5/ 130 ط:دارالكتاب الإسلامي) الحاصل مذکورہ کمپنی کا طریقہِ تجارت اوراس میں شرکت کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ اس کے جواز کی یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے کہ : ۱۔ تمام شرکاء کے اصل سرمایہ کی تعیین ہو۔ ۲۔ شریک(partner) کیلئے تنخواہ مقرر نہ کی جائے، بلکہ اگر ضرورت ہوتو شریک عامل کے نفع کا تناسب بڑھا دیا جائے۔ ۳۔ حرام اشیاء کی خرید و فروخت نہ کی جائے۔ ۴۔ قبضہ اصالۃً یا وکالۃً ہوجانے کے بعد بیع کی جائے۔ ۵۔ نقصان کی صورت میں ہر شریک اپنے سرمایہ کے تناسب سے برداشت كرے گا۔ ۶۔ نئے شریک(partner) کو کاروبار میں شامل کیا جائے تو پہلے موجود کاروبار کے تمام اثاچہ جات کی اس دن کی مارکیٹ ویلیو معلوم کرکے ہر شریک کے سرمایہ کی تعیین کرلی جائے، پھر نئے شریک کو شامل کیا جائے اور نقصان کی صورت میں ہر شریک اپنے سرمایہ کے تناسب سے نقصان برداشت کرے گا۔ لما في الدر المختار: (لا) يصح اتفاقا۔۔۔ (بيع منقول) قبل قبضه (الدر مع الرد، كتاب البيوع، فصل في التصرف في المبيع، 5/ 147 ط: دارالفكر) سو بعض ائمہ کے نزدیک یہ صورت جائز ہے۔ فیجوز الشرکۃ والمضاربۃ بالعروض بجعل قیمتھا وقت العقد رأس المال عند أحمد في روایۃ، وھو قول مالک وابن أبی لیلی کما ذکرہ الموفق في المغني۔ (ص ۱۲۵، ج۵ )پس ابتلائے عام کی وجہ سے اس مسئلہ میں دیگر ائمہ کے قول پر فتویٰ دے کر شرکت مذکورہ کے جواز کا فتویٰ دیا جاتا ہے۔ (امداد الفتاوی، کتاب ُ الشرکۃ  ، ۳/۴۹۵  مکتبہ :دارالعلوم کراچی) فقط واللہ اعلم
حوالہ: مضاربت