فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

موقوفہ زمین کی فروخت کرکے دوسری جگہ مسجد و مدرسہ بنانا — شرعی حکم

فتویٰ نمبر 223202610142 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

موقوفہ زمین کی فروخت کرکے دوسری جگہ مسجد و مدرسہ بنانا — شرعی حکم

سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک رقبہ جو کہ 11 کنال مسجد (جامع مسجد صدیقیہ)کا اور 9 کنال مدرسے (جامعہ عربیہ تعلیم الدین صدیقیہ)کیلئے تقریباً 70 سال قبل وقف کیا گیا ۔ اس رقبہ کی آمدن ہر سال گندم کی صورت میں آتی ہے۔ رقبہ شہر سے دوری پر ہے۔ اب مہتمم صاحب یہ چاہتےہیں کہ رقبہ کو فروخت کرکے شہر میں مسجد و مدرسہ کیلئے جگہ خرید کر ادارہ ہذا کی شاخ بناتے ہوئے تعمیر کی جائے۔ آیا شرعاً ایسا کرنے کی اجازت ہے؟
جواب
واضح رہے کہ وقف مکمل ہوجانے کے بعد موقوفہ زمین اللہ تعالی کی ملکیت ہوتی ہے، کسی فرد کی ملکیت نہیں رہتی، اور اس کی خرید و فروخت واقف کیلئے بھی جائز نہیں ہے۔ لہٰذا مہتمم کیلئے مذکورہ رقبہ فروخت کرکے دوسری جگہ زمین خرید کر مسجد و مدرسہ بنانا شرعاً جائز نہیں ہے۔ لما في الفتاوى الهندية: أما تعريفه فهو في الشرع۔۔۔ وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث كذا في الهداية وفي العيون واليتيمة أن الفتوى على قولهما كذا في شرح أبي المكارم للنقاية (کتاب الوقف، 2/ 350 ط:دارالفکر) لما في الدر المختار: (فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن) قال ابن عابدين: (قوله: لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه، ولا يعار، ولا يرهن لاقتضائهما الملك درر؛ ويستثنى من عدم تمليكه ما لو اشترط الواقف استبداله وسيأتي الكلام عليه۔۔۔ (الدر مع الرد،کتاب الوقف، 4/ 351،352 ط: دارالفكر) فقط واللہ اعلم
حوالہ: وقف