لاپتہ (مفقود الخبر) بیٹے کی موجودگی میں وراثت کی تقسیم — موقوف حصص کا شرعی طریقہ
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ محمد رمضان فوت ہوگیا ہے۔ ترکہ میں ایک ۵ مرلہ کا مکان ہے۔ورثاء میں ۳ بیٹے(قیوم نواز، محمد طاہر، محمد قیصر) اور ۴ بیٹیاں (دلشاد،عائشہ، حمیدہ، کنیز فاطمہ) ہیں۔ مرحوم کے والدین اور بیوی کا انتقال مرحوم کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا۔ بیٹوں میں سے ایک بیٹا (قیوم نواز) ۲۰ سال سے لاپتہ ہے۔ اس کی زندگی یا موت کا کوئی علم نہیں۔ہر ایک کا شرعی حصہ بتا دیں۔
جواب
مسئلہ10/5/تصحیح20*2=40 توافق بالنصف رمضان(متوفی) مسئلہ مفقود بر تقدیرِ حی
میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹا بیٹا بیٹا (حی)
دلشاد عائشہ کنیزفاطمہ حمیدہ محمد طاہر محمد قیصر قیوم نواز
1 1 1 1 2 2 2
4 4 4 4 8 8 8
مسئلہ8/4 رمضان(متوفی) مسئلہ مفقود بر تقدیرِ میت
میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹا بیٹا بیٹا (میت)
دلشاد عائشہ کنیزفاطمہ حمیدہ محمد طاہر محمد قیصر قیوم نواز
1 1 1 1 2 2 محروم
5 5 5 5 10 10
مسئلہ نمبر 3(مسئلہ منقح):
مسئلہ40 رمضان(متوفی)
میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹا بیٹا
دلشاد عائشہ کنیزفاطمہ حمیدہ محمد طاہر محمد قیصر
4 4 4 4 8 8
حصص موقوفہ=8
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد از ادائے قرض و وصیتِ جائزہ رمضان(مرحوم) کا کل ترکہ40حصے ہو کر ہر بیٹی کو اقل حصہ (یعنی 4) اور ہر بیٹے کو اقل حصہ (یعنی 8) ملے گا، باقی ماندہ 8حصوں کو موقوف رکھا جائے گا تاوقتیکہ قیوم نواز(بیٹا،جوکہ لاپتہ ہے) کی موت کا یقینی علم ہوجائے یا اس کے ہم عمر افراد فوت ہو جائیں، اگراس مدت کے دوران وہ آجائے تو اپنا حصہ وصول کرے گا، اور نہ آنے کی صورت میں ہر بہن کو ایک ، ایک حصہ ملے گا اور بقیہ چار حصوں میں سے ہر بھائی کو دو حصے ملیں گے۔حصص کی تقسیم کیلئے مسئلہ نمبر3 ملاحظہ فرمائیں۔
لما في بدائع الصنائع:
وأما حكم ماله: فهو أنه إذا مضت من وقت ولادته مدة لا يعيش إليها عادة يحكم بموته
(کتاب الفرائض، 6/ 197 ط:دارالکتاب الإسلامي)
فقط واللہ اعلم
حوالہ: آبق ومفقود